خطبات محمود (جلد 10) — Page 23
23 ہیں۔اور یہی مفہوم ہے بیعت کا۔پس اگر ایسے مواقع نہ پیش آسکتے۔جب سب کچھ دینا پڑتا تو ہرگز خدا تعالیٰ بیعت کا حکم نہ دیتا۔اگر خدا تعالیٰ کے ارادہ میں یہ تھا کہ کبھی ایسا موقعہ پیش نہ آئے گا کہ سب کچھ مانگیں گے یا بیعت کرنے والوں پر فرض نہیں کہ سب کچھ دے دیں تو پھر ہرگز خدا تعالیٰ بیعت کا اقرار نہ لیتا بلکہ یہی اقرار لیتا کہ مال کا اتنا حصہ دوں گا۔اور وہی انتہائی حد قرار دیتا۔جس پر آگے قدم رک جانا چاہئے تھا مگر اس کی بجائے خدا تعالیٰ نے بیعت لی۔جس میں ہر چیز جان ، مال ، عزت ، آبرو وغیرہ آجاتی ہے اور اس طرح یہ اقرار لیا کہ جب دین کے لئے ضرورت ہو تو کسی چیز کے دینے سے دریغ نہیں کروں گا۔اس کا یہی مطلب ہے کہ ایسے مواقع پیش آسکتے ہیں اور کام کرنے والوں کے لئے جائز ہے کہ ایسے موقع پر مطالبہ کریں کہ لاؤ سب کچھ لا کر رکھ دو۔جسے دین کے لئے خرچ کیا جائے۔ایسے مواقع پر سوائے اس چیز کے جو شریعت کے لحاظ سے ضروری ہو کہ اپنے پاس رکھی جائے۔مثلا " ستر ڈھانکنے کے لئے۔اگر کوئی ایک پیسہ بھی اپنے پاس رکھتا ہے تو وہ اس کے لئے حرام ہے۔جب تک اس قربانی کے لئے ہماری جماعت تیار نہیں ہوتی اور صرف تیار ہی نہیں بلکہ عملی نمونہ نہیں دکھاتی اور کر کے نہیں دکھا دیتی۔اس وقت تک بیعت صرف منہ کے الفاظ ہیں۔فریب ہے۔دھوکہ ہے۔جھوٹ ہے اور جھوٹ بھی اتنا بڑا جو خدا تعالیٰ سے بولا گیا۔پس قربانی اور بیعت کا یہ مفہوم ہے جو میں نے بیان کیا ہے۔جماعتوں کے امیروں پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کو چاہئے کہ متواتر یہ مفہوم اپنی جماعت کے لوگوں کے ذہن نشین کرتے رہیں اور کم از کم ۱۲ دفعہ سال میں ضرور افراد کے سامنے پیش کریں۔اس کے علاوہ افراد سے مل کر بھی انہیں سمجھائیں۔کیونکہ جب تک یہ امرا چھی طرح ان کے ذہن نشین نہ ہو جائے گا۔لوگوں میں کامل جوش نہ پیدا ہو گا۔دراصل دل کی خوشی اور امنگ ہی کام کراتی ہے۔جن لوگوں کے دل وسیع ہوتے ہیں۔وہ بہت بڑی بڑی قربانیاں کر کے بھی کہتے ہیں۔ہم نے کچھ نہیں کیا۔اور جن کے دل تنگ ہو ہوتے ہیں۔وہ ایک پیسہ دیگر بھی کہہ اٹھتے ہیں بڑا بوجھ پڑ گیا۔پس دلوں کی اصلاح کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔اگر دلوں کی اصلاح ہو جائے اور لوگ بیعت کا حقیقی مفہوم سمجھ جائیں۔تو پھر کوئی بڑی سے بڑی قربانی ان کے لئے مشکل نہ ہوگی۔دیکھو حضرت ابو بکر این متواتر سارا مال لاکر رسول کریم ﷺ کے سامنے حاضر کرتے رہے۔اور کبھی انہوں نے یہ نہ کہا کہ بڑا بوجھ پڑ گیا ہے۔لیکن منافقوں نے کبھی ادنیٰ چندوں میں بھی حصہ نہ لیا اور کہتے رہے بوجھ سے دب گئے۔پس یہ بات منحصر ہے دل کی قربانی پر اور ا الله