خطبات محمود (جلد 10) — Page 236
236 26 اصلاح ارشاد کا کام بند نہیں ہونا چاہئے (فرموده ۱۵ اکتوبر ۱۹۲۶ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : ہدایت جس کا ذکر سورہ فاتحہ میں آتا ہے اور جو انسان کو سیدھے راستہ پر لے جاتی ہے اور اسے صراط مستقیم پر چلاتی ہے۔وہ ایسی باریک اور ایسی لطیف ہوتی ہے کہ اندرونی احساسات کے سوا کوئی اور چیز اسے سمجھ نہیں سکتی۔اور ابتدا اس کی حقیقت کا معلوم کرنا انسان کے لئے بعض وقت بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ایک شخص کو ہدایت مل تو رہی ہوتی ہے لیکن باوجود اس کے وہ اس کو سمجھ نہیں سکتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جتنی جتنی کسی کی اخلاقی حالت موٹی ہوتی ہے اتنی ہی اس کی ہدایت باریک ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ اسے شناخت نہیں کر سکتا۔یہاں تک کہ بسا اوقات وہ سمجھتا ہی نہیں کہ اسے ہدایت مل بھی رہی ہے یا نہیں۔بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہدایت پاتے ہوئے بھی ایک شخص یہی سمجھتا ہے کہ وہ ہدایت نہیں پا رہا۔بسا اوقات وہ یہی خیال کر لیتا ہے کہ مجھے کوئی ہدایت نہیں مل رہی اس وجہ سے ایسا شخص کبھی ہدایت ملتے ہوئے اسے ترک کر دیتا ہے۔کبھی حاصل ہوتی ہوئی ہدایت کو ضائع کر دیتا ہے۔کیونکہ جن باتوں سے اسے آہستہ آہستہ ہدایت مل رہی ان باتوں کو چھوڑ دیتا ہے جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ ہدایت پانے سے بھی محروم رہ جاتا ہے۔چونکہ ہدایت ایک لطیف چیز ہے اور انسان اسے بعض وقت نمایاں طور پر محسوس نہیں کر سکتا۔اس لئے وہ ناامید ہو جاتا ہے کہ مجھے ہدایت مل ہی نہیں سکتی۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو کہ عین ہدایت کے راستہ پر چلتے ہوئے بھی مایوس نظر آتے ہیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نشاط اور وہ خوشی جو ہدایت سے حاصل ہوتی ہیں۔شروع شروع میں اس قدر تھوڑی ہوتی ہے کہ وہ اسے محسوس نہیں کرتے اور یوں جب