خطبات محمود (جلد 10) — Page 18
18 ہمت نہیں ہوگی اور جن میں امنگ اور ہمت ہوتی ہے۔ان کے سمجھانے اور بتانے پر کام کرتے ہیں۔دیکھو فوج میں سپاہی اپنے افسروں کے ذریعہ لڑتے ہیں۔اگر افسر بہادر ہو تو سپاہی بھی بہادر ہوتے ہیں اور اگر افسر بزدل ہو تو سپاہی بھی بزدل ہو جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ فتوحات اور شکستوں کا ذمہ دار افسروں کو سمجھا جاتا ہے۔اگر افسروں کی کوششیں اور نمونے اپنے ماتحتوں پر گہرا اثر نہ رکھتے۔اگر افسر کی بہادری ۱۰ - ۵۰ - ۱۰۰ آدمی کو بہادر نہ بنا سکتی۔اگر افسر کی بزدلی ۱۰-۵۰ - ۱۰۰ کو بزدل نہ بنا دیتی۔تو شکست کے موقعہ پر اس پر الزام کیسا؟ اور فتح حاصل ہونے پر اس کی تعریف کیسی؟ ہر افسر شکست کے موقعہ پر کہہ سکتا تھا میں کیا کرتا میرے ماتحت بزدل سپاہی تھے یا فتح کے موقعہ پر کہا جا سکتا تھا۔افسر کسی تعریف کا مستحق نہیں اس کے ماتحت بہادر سپاہی تھے۔کونسا جرنیل ہے جو اکیلا فتح حاصل کرتا یا اکیلا شکست پاتا ہے نہ اکیلا کوئی جرنیل فتح پا سکتا ہے اور نہ اکیلا شکست پا سکتا ہے۔اگر ہ نظر ڈالی جائے تو فتح پانے والے سپاہی ہوتے ہیں اور شکست پانے والے بھی سپاہی ہوتے ہیں۔مگر کہا یہ جاتا ہے کہ فلاں افسر بہت اعلیٰ درجہ کا ہے اور فلاں افسر قابل مذمت ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ افسر ایسے شخص کو بنایا جاتا ہے۔جس کے متعلق امید کی جاتی ہے کہ وہ طاقتور اور بہادر ہے اور دوسروں کو سہارا دے کر کھڑا کر سکے گا اور تمام بنی نوع انسان کی فطرتیں اس بات کو قبول کرتی ہیں کہ افسر کی بہادری اور بزدلی سے ہزاروں سپاہی بہادر یا بزدل بن جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی افسر فوج سمیت شکست کھاتا ہے تو اس کی نالائقی سمجھی جاتی ہے اور اگر فتح حاصل کرتا ہے تو اس کی بہادری قرار دی جاتی ہے۔کیونکہ جب اس امر کو تسلیم کر لیا گیا کہ افسر کے اندر یہ طاقت ہوتی ہے کہ وہ سینکڑوں بزدلوں کو بہادر بنا دے یا سینکڑوں بہادروں کو بزدل بنا دے تو فتح و شکست کا بیشتر حصہ بھی افسر کی طرف ہی منسوب کیا جائے گا۔ظاہر پر غرض دنیا کے تجارب بتاتے ہیں۔ایک انسان میں یہ طاقت ہوتی ہے کہ سینکڑوں کو بہادر بنا دے یا سینکڑوں کو بزدل بنا دے اور وہ ان سب کی طرف سے ذمہ دار ہوتا ہے۔ایسے شخص کی ذمہ داریاں بہت بڑھی ہوتی ہیں اور ماتحتوں کی خرابیاں ایک حد تک اس کی طرف منسوب ہو سکتی اور ان کی اصلاح کی ذمہ داری اس کے سر پر ہوتی ہے۔میں اس تمہید کے بعد اپنی جماعت کے کارکنوں کو یعنی مختلف جماعتوں کے امیروں ، پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان علاقوں کی جماعتوں کی خرابیاں یا کامیابیاں ان کی ہمت اور طاقت پر منحصر ہیں۔اگر کسی جماعت میں سستی، فساد، جھگڑا یا رخنہ پڑتا ہے تو اس کے ذمہ دار کار کن