خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 162

162 18 چندہ خاص کی تحریک (فرموده ۷ مئی ۱۹۲۶ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں نے پچھلے دنوں سلسلہ کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے چندہ خاص کی طرف جماعت کو توجہ دلائی تھی۔جس کی مقدار ماہوار آمدنی کے ۳۰ فیصدی سے لے کر ۵۰ فیصدی تک حسب استعداد اور ہر ایک کے حالات کے مطابق تھی۔اب میں اپنی جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ ولاتا ہوں کہ ہمارے چندوں کی تعداد قلیل سے قلیل بجٹ کو بھی جو ہر رنگ میں کانٹ چھانٹ کر بنایا گیا ہے پوری نہیں کر سکتی۔جب تک ہمارے ماہواری چندوں میں اضافہ نہ ہو۔چندہ خاص کی ضرورت رہے گی۔جوں جوں چندہ عام میں غافل اور ست آدمیوں کے غفلت اور ستی چھوڑ دینے یا جماعت کے بڑھ جانے سے اضافہ ہو گا۔اسی حالت میں چندہ خاص میں کمی ہو سکے گی۔ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے جو اس سال کے ابتدائی مہینوں میں تمام لوگوں کو درپیش تھے۔یعنی غلہ کی کمی اور قحط سالی۔اس وجہ سے چندہ خاص کی تحریک کو میں نے بہت پیچھے ڈال دیا تھا لیکن چونکہ تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ کام کرنے والوں کو کام کرنے کے لئے وقت بھی دیا جائے اس لئے غلہ کے نکلنے سے ایک یا ڈیڑھ مہینہ پیشتر اعلان کر دیا گیا تھا۔پھر یہ بات بھی مد نظر تھی کہ لوگ رمضان میں بھی کام پورے طور پر نہیں کر سکتے۔مگر اب یہ دونوں حالتیں بدل گئی ہیں۔رمضان ختم ہو چکا ہے اور نیا غلہ نکل رہا ہے۔ہندوستان میں تو غلہ گھروں میں بھی آچکا ہے لیکن پنجاب میں ابھی ایسا نہیں ہوا۔مگر کھیتیاں کائی جاچکی ہیں۔اب دوستوں کو خصوصیت سے چندہ خاص کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔مجھے افسوس ہے کہ قادیان کے دوستوں نے بھی پورے طور پر چندہ میں حصہ نہیں لیا۔