خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 155

155 اب ہم وہ لوگ ہیں جو اس مسیح موعود کے ماننے والے ہیں۔جس کے آنے کے بعد اسلام نے ساری دنیا میں پھیلنا ہے۔اور اس مسیح نے اعلان کر دیا کہ اب ساری دنیا کو ایک مذہب پر جمع کرنے کا وقت آگیا ہے۔اس وجہ سے ہمارا مقصد اور منتی تمام پہلی قوموں سے بلند اور بالا ہے۔عیسائی کہتے تو تھے کہ ساری دنیا میں عیسائیت پھیل جائے گی لیکن وہ یہ امید نہیں کر سکتے تھے کہ عیسائیت اس وقت تک پھیل بھی سکتی ہے جب تک کہ مسیح دوبارہ نہ آجائے۔اسی طرح مسلمان بھی کہتے تو تھے کہ ساری دنیا اسلام پر جمع ہو جائے گی لیکن وہ یہ خیال نہیں کر سکتے تھے کہ مسیح موعود کے آنے کے بغیر ایسا ہو سکتا ہے۔مگر ہمارے زمانہ میں چونکہ مسیح موعود آگیا ہے اس لئے ہمارا مقصد پچھلی تمام قوموں سے بلند اور بالا ہو گیا ہے۔اس مقصد عظیم کو پورا کرنے کے لئے جو نہ تو تیرہ سو سال تک مسلمانوں کا رہا۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مسیح موعود کے آنے کے بغیر پورا نہ ہو سکے گا۔نہ عیسائیوں کا رہا۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مسیح نے آکر پورا کرنا ہے۔اس طرح نہ کسی اور پہلی قوم کا رہا۔کیونکہ وہ تو خیال بھی نہیں کر سکتی تھی کہ ساری دنیا اس کی تعلیم پر جمع ہو سکتی ہے۔اس کے لئے ہمیں خاص محنت اور کوشش کی بھی ضرورت ہے۔اور ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ چار امور جن کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔اور جو ہر قوم کی ترقی کے لئے ضروری ہیں۔وہ ہمارے لئے موجود ہیں یا نہیں۔پہلی چیز یہ ہے کہ پیج اعلیٰ درجہ کا ہو۔یعنی تعلیم اعلیٰ ہو۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمیں حاصل ہو گئی ہے اور ہم نے اس کے ثبوت خود دیکھے اور مشاہدہ کئے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت اسی لاہور میں ایک جلسہ ہوا۔جس میں تمام مذاہب کے نمائندوں نے بعض اہم مسائل کے متعلق اپنے اپنے مذاہب کی خوبیاں بیان کیں۔حضرت مسیح موعود نے بھی اسلام کے متعلق مضمون لکھا۔جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ وہ سب پر غالب ہو گا۔اور اس بات کو آپ نے پہلے شائع کر دیا۔پھر جب وہ مضمون پڑھا گیا تو سب اقوام نے تسلیم کیا کہ آپ کا مضمون سب سے بالا رہا اور اس سے بڑھ کر کسی تعلیم کے اعلیٰ ہونے کی کیا خوبی ہو سکتی ہے کہ دشمن بھی اس کے اعلیٰ ہونے کا اقرار کر لے۔کسی دشمن سے یہ توقع تو نہیں کی جاسکتی کہ وہ ہر موقعہ پر اور ہر بات کو اعلیٰ کہے گا۔کیونکہ اگر ایسا ہو تو وہ اس مذہب کو قبول ہی کیوں نہ کرے اور مسلمان کیوں نہ ہو جائے۔اس سے یہی ہو سکتا ہے کہ دوسرے مذاہب کے مقابلہ میں جو تعلیم پیش کی جائے اسے اعلیٰ قرار دے دے تو اس مضمون کے متعلق سب نے تسلیم کیا کہ بالا رہا۔ابھی ایک کانفرنس ولایت میں ہوئی۔جس میں میں نے مضمون لکھا۔وہ مضمون میرا نہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ )