خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 140

1۔40) اپنے غریب افراد کی زندگی کا خیال رکھتی ہے۔مثلاً ایک شخص قومی کام کرتے کرتے مرگیا۔اب اگر اس کی بیوی بچوں کی پرورش نہ کی جائے گی۔تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ ایک طرف تو دوسرے لوگ اس قوم میں کبھی داخل نہیں ہوں گے۔کیونکہ وہ خیال کریں گے کہ یہ تو ایک سنگ دل قوم ہے۔جس میں بیواؤں اور یتیموں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ایسی سیاہ دل قوم میں داخل ہو کر کیا لینا ہے۔اور دوسری طرف کام کرنے والوں میں بزدلی پیدا ہوگی اور سمجھیں گے کہ ہم مر گئے تو پیچھے ہمارے بیوی بچوں کی کون خبر گیری کرے گا۔لیکن اگر لوگ یہ دیکھیں گے کہ قوم میں یتیم بچوں اور بیواؤں کی خبر گیری کی جاتی ہے۔اور غرباء کا خیال رکھا جاتا ہے۔تو بڑی خوشی سے قربانی کے لئے تیار ہو جائیں گے۔پس قربانی کی روح ہمیشہ غرباء کی خدمت اور پرورش سے ہی پیدا ہوتی ہے۔اور غرباء کی پرورش ایسی چیز ہے۔جو قومی قربانی کے لئے جرات دلاتی ہے۔غرض ترقی کے لئے قربانی کی ضرورت ہے۔جب تک پہلے قربانی نہ کی جائے۔تب تک کسی کام میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔زمینداروں کو ہی دیکھ لو۔پہلے وہ بیلوں پر اور ہل وغیرہ پر خرچ کرتے ہیں اور پھر اپنے گھر کا غلہ زمین میں ڈال دیتے ہیں۔تب جا کر پیداوار گھر لاتے ہیں۔اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں۔اس سے کئی گنا زیادہ غلہ لاتے ہیں۔غرض ترقی کا ایک ہی گر ہے کہ افراد اپنے آپ کو قربان کر دیں اور جب افراد اپنے آپ کو قربان کریں گے تو قوم ترقی کر جائے گی۔تاریخ میں جو کوئی قوم بھی ترقی کے زینہ پر چڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے وہ وہی قوم ہوتی ہے جس کے افراد نے یہ تہیہ کر لیا ہو کہ ہم قوم کے لئے فنا ہو جائیں لیکن جس قوم نے کہا کہ ہم مرگئے تو کیا ہو گا وہی قوم ہمیشہ تباہ اور ذلیل ہوتی رہی ہے۔آج اس کی مثال میں ہندوستان کو ہی دیکھ لو۔مسٹر گاندھی نے جب گورنمنٹ کے خلاف آواز اٹھائی تو پہلے پہل بہت لوگوں نے ان کا ساتھ دیا۔یہاں تک کہ خود حکومت بھی گھبرا گئی تھی۔اور بعض ہماری جماعت کے لوگوں نے بھی مجھے لکھا کہ اب کیا ہو گا۔لیکن مجھے ان گورنمنٹ کے مقابلہ میں کھڑے ہونے والوں کے متعلق ایک قصہ یاد آتا۔جو اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ایک امیر کے باورچی خانہ میں اس کے باورچیوں کی غفلت سے دروازہ نہیں لگا ہوا تھا۔اس وجہ سے کتے اس میں آگھسا کرتے اور خوب کھاتے۔آخر ایک دن امیر کو پتہ لگا تو اس نے دروازہ لگوا دیا۔اور دروازے بند کرنے کے لئے حکم دیدیا۔جب کتوں کو معلوم ہوا تو گھبرائے کہ اب کیا بنے گا۔ان میں سے ایک بڑھے کتے نے کہا۔گھبراتے کیوں ہو۔بے شک امیر نے دروازہ لگا دیا ہے لیکن تم یہ نہیں جانتے کہ دروازہ بند کون کرے گا۔اب بھی وہی نوکر ہیں۔جو پہلے باورچی خانہ پر مقرر تھے۔اسی طرح مسٹر