خطبات محمود (جلد 10) — Page 115
115 12۔رمضان المبارک سے استفادہ (فرموده ۲۶ مارچ ۱۹۲۶ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : یہ مہینہ جو گزر رہا ہے وہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ اگر کوئی عذر ایسا نہ ہو جس کو شریعت نے عذر قرار دیا ہے۔تو وہ خدا کے قرب اور رضا جوئی کے لئے پو پھٹنے سے لے کے سورج ڈوبنے تک کھانے پینے اور تعلقات مرد و زن سے بالکل مجتنب رہیں۔اس وجہ سے یہ وہ مہینہ ہے جس میں انسان بہت سی حالتوں میں خدا تعالٰی کے مشابہ ہونے کی کوشش کرتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی صفت ہے کہ وہ کھاتا پیتا نہیں۔یہ خدا تعالیٰ کی صفت ہے کہ وہ جوڑے کا محتاج نہیں۔بندہ بھی رمضان کے دنوں میں خدا تعالیٰ کے رنگ کو جس حد تک کہ انسان کے بس میں ہے اختیار کرتا ہے۔اور باوجود اس کے کہ وہ کھانے کا محتاج ہوتا ہے۔کھانا چھوڑ دیتا ہے۔باوجود اس کے کہ پینے کا محتاج ہوتا ہے۔پینا چھوڑ دیتا ہے۔باوجود اس کے کہ بقائے نسل کے لئے دوسری جنس کی طرف مائل ہونے کا محتاج ہوتا ہے۔اس سے اجتناب کرتا ہے۔پس اس طرح وہ رمضان کے دنوں میں خدا تعالیٰ کا مظہر بننے کی کوشش کرتا ہے۔ان معنوں میں نہیں کہ خدا تعالیٰ کا مد مقابل بن جائے۔بلکہ اس طرح جس طرح ہر محبت کرنے والا انسان اپنے محبوب کی شکل اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔یہ مشابہت برابری کی نہیں ہوتی۔بلکہ غلامی کی ہوتی ہے۔جیسا کہ ہر ایک غلام کا فرض ہے کہ اپنے آقا کے قدم بقدم چلے اور اس پر کوئی یہ نہیں کہتا کہ وہ اپنے آقا کی نقل کرتا ہے۔اسی طرح خدا تعالی کی مشابہت اختیار کرنے والا ہوتا ہے۔ہمیشہ سزا کا مستحق وہی ہوتا ہے جو کسی کی نقل کے طور پر کوئی کام کرتا ہے۔ایک غلام جو اپنے آقا کے پیچھے پیچھے چلتا ہے۔وہ نقال نہیں ہو تا۔کیونکہ اس کا فرض ہے کہ پیچھے چلے۔اسی روح اور نیت سے بندہ رمضان میں وہ رنگ اختیار