خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 86

86 الله دل کھول دیا۔اس وقت ساری دنیا میں سوائے محمد ان کے اور کوئی چیز مجھے محبوب نہ تھی۔اس وقت محبت کی وجہ سے آپ کے جلال کے باعث میں نے آپ کی شکل نہ دیکھی۔اب اگر کوئی مجھے سے رسول کریم ﷺ کا حلیہ پوچھے تو میں نہیں بتا سکتا اگر میں رسول کریم کے وقت فوت ہو جاتا۔تو اچھا ہوتا آپ کے بعد جھگڑے پیدا ہو گئے۔معلوم نہیں مجھ سے کیا کیا غلطیاں ہوئیں یہ اللہ ہی جانتا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ دل خدا ہی کے قبضہ میں ہیں اور وہی ان کو بدل سکتا ہے۔پھر دیکھو کیا رسول کریم ﷺ نے حضرت عمر اللہ پر اس وقت احسان کرنے شروع کئے تھے جب ان کے دل میں رسول کریم ﷺ کی محبت پیدا ہوئی۔احسان تو آپ پہلے سے کرتے چلے آ رہے تھے۔بات یہ ہے کہ خدا کے فضل نے حضرت عمر کے دل میں اس وقت محبت پیدا کر دی۔اور جب محبت پیدا کر دی تو پچھلے احسان بھی نظر آنے لگ گئے۔اب اگر ظاہری حالات کو دیکھا جائے تو حضرت ابو بکر اور حضرت عمر وغیرہ جو رسول کریم اللہ کے حکم پر اپنے مال قربان کرتے تھے۔کہہ سکتے تھے کہ ہم نے یہ احسان کیا۔وہ احسان کیا۔مگر اس کے مقابلہ میں وہ اپنے مال اور جانیں قربان کر کے کہتے ہم پر رسول کریم نے بڑا احسان کیا کہ ہم کو ان خدمات کا موقعہ حاصل ہوا۔دوسری طرف عبد اللہ بن ابی کو مال ملتا تھا۔مگر وہ یہ کہتا مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا۔بات یہی ہے کہ احساسات جذبات اور قلب سے تعلق رکھتے ہیں۔اور یہ خدا ہی کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے مومن کو سکھایا ہے کہو۔ایاک نعبد و ایاک نستعین - ایاک نعبد سے انسان کی عقلی اصلاح ہوتی ہے۔تب وہ ظاہری عبادت کرتا ہے۔مگر اصل چیز محبت کا درجہ ہے۔جو عمل کے بعد اس وقت آتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد اور نصرت حاصل ہوتی ہے۔اس لئے بتایا خدا ہی کی عبادت کرو۔مگر ساتھ ایاک نستعین کہو یعنی خدا سے اپنے دل کی اصلاح چاہو۔کیونکہ اس کے بغیر کوئی عبادت عبادت نہیں ہے۔محبت کا جذبہ ایک ایسا جذبہ ہے کہ جب یہ پیدا ہو جائے تو پھر کسی دلیل کی حاجت باقی نہیں رہتی۔مجھے سلسلہ احمدیہ کے ایک قابل قدر رکن کی بات جو فوت ہو چکے ہیں اور جن کا نام منشی روڑے خان تھا۔بہت ہی پسند آئی۔وہ اپنا واقعہ سناتے ہوئے کہتے مجھ سے کسی نے پوچھا۔مرزا صاحب کے بچے ہونے کی تمھارے پاس کیا دلیل ہے۔میں نے کہا اگر دلیل پوچھنی ہے تو کسی اور سے جا کر پوچھو۔مجھے تو ایک ہی دلیل یاد ہے۔اور وہ یہ کہ میں نے مرزا کا چہرہ دیکھا۔وہ جھوٹا نہیں ہو سکتک یہ محبت کا جذبہ تھا۔پس محبت کے جذبات جن کے دل میں پیدا ہو جاتے ہیں۔وہ ہر قسم کی