خطبات محمود (جلد 10) — Page 3
3 گزشتہ سال اس پہلو پر زور نہیں دیا۔بلکہ یہاں سے مبلغ منگا کر لیکچر دلانے یا خود لیکچر دینے پر زور دیا ہے ان میں ترقی نہیں ہوئی اور اگر ہوتی ہے تو بہت کم۔لیکن جنھوں نے اس بات کو سمجھ لیا ہے کہ تبلیغ افراد سے ملنے اور گفتگو کرنے سے ہو سکتی ہے۔انہوں نے خاص طور پر ترقی کی ہے۔بعض جگہ تو جماعتیں پہلے کی نسبت دگنی تعداد میں ہو گئی ہیں اور بعض جگہ اس سے بھی زیادہ ترقی ہوئی ہے۔اصل بات یہ ہے جیسا کہ ایام جلسہ میں ملاقات کرنے والے اصحاب کو بھی میں نے سمجھایا کہ بعض بیماریوں کے علاج ایک تو ٹوٹکے ہوتے ہیں جو عورتوں کو بھی یاد ہوتے ہیں۔لیکچر اس کے مشابہ ہوتا ہے۔جس طرح ٹوٹکا اگر مطابق آجائے تو فائدہ ہو جاتا ہے ورنہ نہیں۔اسی طرح لیکچر ہوتا ہے اگر اس میں کوئی ایسی بات بیان کی گئی جو سننے والے کے کسی شک و شبہ کے لئے مفید ہوئی تو اسے فائدہ پہنچ گیا۔ورنہ وہ کورے کا کورا رہا لیکن افراد کی تبلیغ ایسی ہوتی ہے جیسے طبیب یا ڈاکٹر کا علاج۔ڈاکٹر بیمار کو دیکھتا ہے کہ اسے کیسا بخار ہے کیسا نزلہ ہے اور پھر جس قسم کی بیماری ہوتی ہے اس کے مطابق علاج کرتا ہے۔اسی طرح انفرادی تبلیغ کرنے والا دیکھتا ہے کہ کس قسم کے شکوک اور شبہات کسی شخص کے دل میں ہیں اور پھر ان کے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اس کے مقابلہ میں ایک لیکچرار یا واعظ کھڑا ہو کر لیکچر دیتا ہے اور اپنے لیکچر میں انی متوفیک الخ کی آیت پر بہت زور دیتا ہے لیکن سامعین کے دل میں وما قتلوه الخ کی آیت کھنکتی ہے۔مولویوں نے اس کے متعلق شبہات ڈالے ہوتے ہیں تو انہیں لیکچرار کے سارا زور صرف کر دینے سے بھی کوئی فائدہ نہ ہو گا۔لیکن اگر افراد کو تبلیغ کی جائے گی تو گفتگو میں جس شخص کے دل میں جو اعتراض ہو گا وہ اسے پیش کر کے کہے گا کہ اس کا جواب دو اور مجھے یہ بات سمجھاؤ اس طرح اس کے سمجھنے اور ہدایت پانے کا زیادہ موقعہ ہو گا۔پس لیکچر کی مثال اس ٹوٹکے کی سی ہوتی ہے جو عورتوں کو بھی یاد ہوتا ہے اور جس سے کسی کو فائدہ پہنچ جاتا ہے مگر بہتوں کو فائدہ نہیں پہنچتا۔اور افراد کو تبلیغ کرنا ڈاکٹری علاج کی طرح ہوتا ہے۔ڈاکٹر بھی پیٹنٹ دوائیاں یاد رکھتے ہیں اور جب ضرورت ہو انہیں استعمال کرتے ہیں۔اسی طرح بے شک افراد کی تبلیغ میں ایسی باتیں بھی استعمال کی جائیں جو ٹوٹکا کے طور پر ہوں۔لیکن اصل طریق تبلیغ یہی ہے کہ افراد سے مل کر ان کے شکوک اور شبہات کا ازالہ کرنے کی کوشش کی جائے۔پس تمام احمدی جماعتوں کو چاہیے کہ ان کا ہر ایک فرد ایک ایک دو دو آدمیوں کو مد نظر رکھ کر ان کو تبلیغ کرے۔اگر اس پر پورے طریق سے عمل کیا جائے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک سال میں جماعت دگنی ہو سکتی ہے اور کئی جگہ ہو بھی گئی ہے۔