خطبات محمود (جلد 10) — Page 59
59 کر اسے پانچ سو اشرفی کی تحصیلی دی۔وہ اس تھیلی کو ہر وقت اٹھائے پھرتا۔چونکہ عام طور پر امراء اور رؤساء کی حجامتیں بنایا کرتا تھا۔اس لئے اسے یہ فکر نہ تھا کہ کوئی تھیلی چرا لے گا یا چھین لے گا۔وہ اطمینان سے اسے اپنے ساتھ لئے پھرتا۔اور ہر مجلس میں جا کر اچھالتا۔امراء بھی اس کا تمسخر اڑاتے اس سے پوچھتے سناؤ میاں حجام شہر کا کیا حال ہے۔وہ جواب دیتا۔اچھا ہے سارا شہر امیر ہے۔کوئی کم بخت بھی ایسا نہیں۔جس کے پاس کم از کم پانچ سو اشرفی کی تھیلی نہ ہو اور یہ کہہ کر پھر وہ اپنی تھیلی اچھالتا۔ایک دفعہ کسی نے وہ تھیلی کسی طرح اٹھا کر کہیں رکھ لی۔نائی کو جب پتہ لگا تو بڑا متفکر ہوا۔پھر جب وہ حجامت بنانے آیا تو جو واقف راز تھے۔انہوں نے پوچھا کہو میاں حجام شہر کا کیا حال ہے کہنے لگا بہت برا حال ہے نحوست برستی ہے کنگال ہے بھوکا مرتا ہے انہوں نے کہا کہ شہر کو بھوکا نہ مارو اور اپنی تھیلی لے لو ہماری جماعت میں کثیر آدمیوں نے تبدیلی پیدا کی ہے اور جس طرح آنحضرت ایت کے زمانہ میں لوگوں نے تبدیلی پیدا کی۔بعینہ اسی طرح بعض افراد جماعت اپنے نفس کی اصلاح کر رہے ہیں۔پھر کیا ایسے لوگ فاسق فاجر اور بد اعمال کیے جائیں؟ جو شخص ہر وقت شیطان کی رسیوں کو چاقو نکال کر کاٹ رہا ہو۔کیا وہ بدکار کہلائے گا یا ولی اللہ ؟ وہ ہزار دلدل میں پھنسا ہوا ہو اگر نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ گندہ نہیں کہلائے گا ایسا آدمی ظاہری گند سے گندہ نہیں کہلائے گا بلکہ باطنی گند سے گندہ کہلائے گا۔کیونکہ در حقیقت گندہ کر دینے والا گند باطنی گند ہے اور ایسا آدمی جب اس میں سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہو تو اسے گندہ نہیں کہا جا سکتا۔یہ اس پاک تبدیلی کا نتیجہ ہے کہ جب کوئی کام کا وقت ہوتا ہے۔تو ان میں ایسا احساس پیدا ہو جاتا ہے جیسے کسی نے جگا دیا۔ان لوگوں کو کثرت سے مالی ، جانی اور عقلی قربانیاں کرنی پڑتی ہیں اور اگر ان کی یہ قربانیاں جمع کر کے دنیا کے سامنے رکھی جائیں تو دنیا کی آنکھیں کھل جائیں کہ کس طرح ایک چھوٹی سی جماعت دوسروں کے لئے قربانیاں کر رہی ہے۔قرآن شریف اور احادیث میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت اللہ کی بعثت ثانیہ مسیح موعود کے ذریعہ ہوگی۔کیونکہ وہی کام جو رسول کریم ﷺ کے زمانے میں کئے گئے اس زمانہ میں نئے رنگ میں کئے جانے تھے۔آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں اس قدر فسق و فجور نہیں تھا جس قدر اب ہے۔شیطان کے خبائل کم تھے لیکن اس زمانہ میں یہ سب باتیں پورے زور کے ساتھ دنیا میں پیدا ہو گئی ہیں۔اس وقت جس قوم سے مقابلہ تھا وہ کسی بات کی دعویدار نہ تھی مگر آج جس قوم سے مقابلہ ہے