خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 39

39 کے مدارج مانگتے تھے۔کیونکہ اس سے قرآن شریف میں اختلاف لازم آتا ہے۔پس سوچنا چاہئے کہ وہ کون سے معنے ہیں۔جن سے یہ اختلاف دور ہو جاتا ہے۔اس کے لئے جب ہم تدبر کرتے ہیں تو صاف طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ اس آیت کے معنے پہلے لوگوں کی روحانی ترقیات کا طریق ہے اور اس میں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ الہی پہلے لوگوں کی روحانی ترقیات کا جو طریق تھا وہ ہمیں بھی عطا فرما۔ورنہ اگر صراط سے مراد وہ راستہ ہے جس پر پہلے لوگ چلے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ پہلی شریعتیں منسوخ نہیں ہوئیں۔اور ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ ان شریعتوں پر چلا۔لیکن یہ بات نہیں اور ہم یہ دعا نہیں مانگتے کہ الہی پہلے لوگوں کے راستہ پر چلا۔کیونکہ اگر یہ دعا مانگیں گے تو اس کا یہ مطلب ہو گا۔کہ پہلی شریعتیں منسوخ نہیں ہوئیں اور بحال ہیں۔بلکہ اس سے مراد روحانی ترقی کا طریق ہے کہ جس رنگ میں انہوں نے قدم مارا تھا اور روحانی ترقیات حاصل کیں اسی رنگ میں ہمارا قدم بھی اٹھا۔تا ہم بھی ہر وقت ترقی کرتے چلے جائیں اور روحانیت کی انتہا تک پہنچ جائیں۔پس ہماری دعا یہ نہیں ہوتی کہ الہی تو ان کا راستہ ہمیں بھی دکھا جو ہم سے پہلے گذرے۔کیونکہ اگر ہم ایسا کہیں تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ پہلی شریعتیں منسوخ نہیں ہوئیں۔لیکن ہم تو یہ کہتے ہیں کہ پہلی شریعتیں منسوخ ہو چکی ہیں۔اور اب اگر کوئی شریعت ہے تو وہی ہے جو نبی کریم ﷺ لائے۔پس ہماری دعا اس لئے ہوتی ہے کہ ان کے ترقی کے طریق بتا۔اس لئے اھدنا الصراط المستقيم صراط الذين نعمت علیھم کی دعا کا اگر کوئی صحیح مفہوم ہمارے نزدیک ہے تو یہی ہے کہ ہر لحظہ اور ہر قدم پر ہمیں ایمانی اور روحانی ترقیات دی جائیں۔کیونکہ ہم سے پہلے جو تھے۔وہ جس حال میں بھی تھے۔علم۔ایمان اور عرفان میں ترقی کرتے جاتے تھے۔کیونکہ انعمت علیھم کا گروہ وہی گروہ ہے۔جس کا قدم ترقی سے رکتا نہیں۔دوسرا اور کوئی گروہ منعم علیہ نہیں۔اس لئے ہمیں بھی ویسے ہی روحانی ترقی کے طریق بتا۔کیونکہ جو ایک جگہ کھڑا ہے۔اور جس کا قدم ترقی کی طرف اٹھتا نہیں منعم علیہ ہونا تو درکنار اس کا ایمان بھی خطرہ میں ہے اور جس کا ایمان خطرہ میں ہو وہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ میں منعم علیہ گروہ میں سے ہوں۔پس انعمت عليهم وہی گروہ ہے جو ہر لحظہ روحانی ترقی کی طرف قدم اٹھاتا ہے اور آیت صراط الذین انعمت علیھم کے یہ معنے ہوئے کہ ایسے رنگ میں ہمارے ایمان اور ہمارے عرفان کو کر دے کہ ہر وقت اس میں زیادتی ہوتی رہے۔جب اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ ہمیں ہر وقت روحانی ترقیات عطا فرما۔اور کوئی گھڑی بھی ایسی نہ گذرے کہ جس سے ہمارا قدم روحانی ترقی کے اس راستہ پر پڑنے سے رک جائے۔جس پر ہم