خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 310

310 کے ماتحت نہیں۔نہ تو وہ کوئی زہر ہے جو جسم انسانی کے اندر داخل ہو کر اسے تباہ کر دیتا ہے۔نہ وہ جسم کے اجزاء میں سے کوئی جز ہے جس کے خرچ ہو جانے سے انسان پر موت آجاتی ہے۔نہ وہ کوئی عام آفات میں سے ہے جو انسان کو ہلاک کر دیتی ہے۔بلکہ وہ ان چیزوں سے کوئی زاید چیز ہے اور ان قوانین کے علاوہ قانون ہے جو خاص حالات اور خاص شرائط میں جاری ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ انسان بغیر زہریلی چیزوں یا بیماریوں یا آفات کے نہیں مرا کرتا۔لیکن مباہلہ کی صورت میں وہ اپنے عام قوانین کو بدل ڈالتا ہے۔اور غیر معمولی سامان کر دیتا ہے یا معمولی سامانوں میں غیر معمولی تغیر پیدا کر دیتا ہے۔یا معمولی سامانوں کو غیر معمولی سامانوں کے ساتھ ملا کر غیر معمولی تبدیلی پیدا کرتا ہے۔مگر یہ تمام صورتیں اسی حالت میں ظاہر فرماتا ہے جب مباہلہ صحیح طریق اور پورے شرائط کی پابندی کے ساتھ ہو۔اس کے سوادہ کبھی صحیح نتائج نہیں پیدا کرتا میری اس تمہید کا یہ باعث ہوا ہے کہ ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں عینو والی میں ایک مباہلہ تجویز ہوا ہے۔اس مباہلہ میں ہماری جماعت کے ایک آدمی غلام رسول ہیں اور دوسری طرف محمد شفیع مولوی ہیں اس کے حالات پڑھ کر مجھے تعجب ہوا ہے کہ یہ عجیب رنگ کا مباہلہ ہوا ہے۔مباہلہ میں تو یہ شرط ہے کہ وہ ایسے رنگ میں ہو کہ جس سے ایک جماعت پر اثر پڑے۔لیکن یہ دونوں شخص ایسے ہیں جن کا اثر جماعت پر نہیں۔اور مباہلہ کی صورت میں عام قانون تبھی اڑ سکتا ہے جب کوئی خاص ایسا فائدہ پہنچتا ہو کہ جس کے بغیر اسلام کی عظمت قائم نہ ہو۔اور ایسا فائدہ تبھی پہنچ سکتا ہے جب مباہلہ کرنے والی ایک جماعت ہو جو حق کو قبول کرنے کا معاہدہ کرے۔مباہلہ کرنے والا ایسا ہو جس کے ساتھ ایسی جماعت ہو کہ جو اس کے خیالات کی پابند ہو۔اپنے عقائد کو اس کے عقائد کے ساتھ وابستہ کرتی ہو۔ان دونوں