خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 27

27 مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا ہے۔کربلا ٹیست سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم کہ مجھے پر تو ہر لمحہ سو سو کر بلا کی مصیبتیں گذرتی ہیں اور میں تو ہر گھڑی کربلا کی سیر کر رہا ہوں۔یہ شہادت بہت بڑی ہے۔ایک شہید تو وہ ہوتا ہے جو تلوار اٹھا کر دشمن کے سامنے جاتا اور اپنے آپ کو موت سے بچاتا ہوا مارا جاتا ہے۔لیکن ایک شہید وہ ہوتا ہے کہ اگر اسے دنیا کی بہبودی کا خیال نہ ہو تو وہ اپنے قلب کو تسلی دینے کے لئے ہزار دفعہ موت قبول کر لے۔وہ جو دین کے لئے قربان ہوتا ہے مگر تلوار اٹھاتا ہے اس کے مقابلہ میں اس کی قربانی بہت بڑی ہوتی ہے۔جو تلوار کے ذریعہ تو نہیں مرتا مگر ہر گھڑی قربان ہو رہا ہوتا ہے کیونکہ وہ اس لئے نہیں مرتا کہ موت کو پسند نہیں کرتا۔بلکہ اس کا غم اور فکر تو ہزار دفعہ مرنے سے بھی بڑھا ہوتا ہے۔پس قربانی اور شہادت ہی ہے جو انسان کو کمالات تک پہنچاتی ہے۔اس کے لئے یہاں کے کارکنوں کو بھی تیار رہنا چاہئے۔ہمارے لئے فی الحال تلوار کی شہادت کا تو موقع نہیں مگر امت محمدیہ اور تمام عالم کے غم میں گھلنے کی شہادت کا موقعہ ہے اور یہ تلوار کی شہادت سے بہت بڑھ کر شہادت ہے۔جس شخص کو قومی درد سے واسطہ پڑا ہو وہ سمجھ سکتا ہے کہ قوم اور بنی نوع انسان کا درد اتنا بڑا درد ہوتا ہے کہ ایسے شخص کو موت سے زیادہ کوئی نعمت نظر نہیں آتی۔اگر وہ یہ محسوس نہ کرے کہ کم ہمتی ہوگی۔اگر میں جان دے دوں اور اپنی ذمہ داری کو موت کے ذریعہ ترک کر دوں تو وہ سب سے بڑی نعمت موت کو سمجھے۔پس میں اپنی جماعت کے ان کارکنوں سے جو مرکز میں کام کرتے ہیں کہتا ہوں۔قطع نظر اس سے کہ دوسرے بھائی ان کی مدد کرتے ہیں یا نہیں انہیں تیار رہنا چاہئے کہ ہر حالت میں اسلام کی خدمت کرنی ہے۔جو شخص اس نیت اور اس ارادہ سے کام نہیں کر سکتا۔اس کے لئے سلسلہ کا کام کرنے کی نسبت بہتر ہے کہ کسی اور جگہ اپنا ٹھکانا بنائے تاکہ وہ پہلا ایمان بھی نہ کھو بیٹھے۔دین اسلام کی خدمت وہی کر سکتا ہے جو اس بات کے لئے تیار ہو کہ کوئی تکلیف اسے اس کام سے نہیں بنا سکے گی اور وہ ہر لمحہ موت کے لئے تیار رہے خواہ وہ موت تلوار سے ہو خواہ گھٹ گھٹ کر فاقہ کشی سے ہو۔دوسری نصیحت میں کارکنوں اور دوسروں کو یہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ جماعت کے لوگوں کے یہ بات بھی ذہن نشین کرائیں کہ کوئی انسان غلطی سے پاک نہیں ہو سکتا اور غلطی کرنا قابل الزام نہیں۔بد نیتی اور کو تاہی قابل الزام بناتی ہے۔مگر میں نے بعض لوگوں کو دیکھا ہے۔وہ بعض لوگوں