خطبات محمود (جلد 10) — Page 287
287 پیش کریں۔اور اپنی خدمات بھی اس موقعہ پر کام کرنے کے لئے پیش کریں۔زیادہ سے زیادہ چار پانچ دن کی بات ہے۔اتنے دن مہمانوں کے لئے اور مہمان بھی وہ جو حضرت مسیح موعود کے مہمان ہیں۔تنگی اور تکلیف کے ساتھ گزارہ کر لیں۔جگہ کی بات ایسی ہے کہ بڑی سے بڑی جگہ بھی تنگ ہو سکتی ہے اگر اس میں تھوڑے آدمی رکھے جائیں۔اور چھوٹی سے چھوٹی جگہ وسیع ہو سکتی ہے اگر اس میں چند دن گزارہ کرنے کا خیال ہو۔ریل ہی کو دیکھ لو دو دو تین تین دن تک ایک کمرہ میں کتنے آدمی گزارہ کرتے ہیں۔حتی کہ سونے کا بھی وہاں موقعہ نہیں ملتا۔لیکن باوجود اس کے وہاں انسان کو کوئی دقت اور تکلیف نہیں محسوس ہوتی۔بلکہ خوشی کے ساتھ وہ وقت گزار لیتا ہے۔جس کی یہی وجہ ہے کہ اس نے پہلے سے ہی فیصلہ کر لیا ہوتا ہے کہ ریل میں اگر بیٹھنے کی جگہ بھی مل جائے تو بڑی غنیمت ہے۔وہ اپنے اس خیال اور فیصلہ کی وجہ سے سارے سفر میں خوش رہتا ہے کہ یہ سفر ہے اور اس میں گزارہ کرتا ہے۔حالانکہ اس کے مقابل اگر ریل کا سا کمرہ کسی اور جگہ دیا جائے تو وہ کہے گا یہ کیا دربہ سا ہے۔لیکن ریل کے کمرہ میں اگر ٹیک لگانے کی بھی جگہ مل جائے تو کہتا ہے کہ اس دفعہ کا سفر آرام سے کٹا ہے۔حالانکہ وہ تنگ جگہ میں کئی دن رہا ہے۔تو یہ باتیں نسبتی ہوتی ہیں۔نسبت کے ساتھ آرام میں تکلیف محسوس ہوتی ہے اور تکلیف میں آرام معلوم ہوتا ہے۔پس خیالات کا بڑا اثر ہوتا ہے۔خیال سے ہی ایک چیز تکلیف دہ ہو جاتی ہے۔اور خیال سے وہی چیز آرام دہ ہو جاتی ہے۔یہی خیال جلسہ کے دنوں میں احباب کو رکھنا چاہئے۔وہ چند دن کے لئے یہی تصور کر لیں کہ وہ ریل کے کمرہ میں بیٹھے ہیں اور گزارہ کرنا ہے۔جس وقت اس کے دل میں یہ خیال گڑ جائے گا بلکہ نمرہ ہی کہے گا اس وقت ہی اس کو کوئی تکلیف تکلیف نہیں محسوس ہو گی۔بلکہ اس کے دل میں وسعت پیدا ہو جائے گی اور ہر بات میں اسے آرام اور خوشی محسوس ہو گی۔پس جہاں تک ہو سکے۔مہمانوں کی خاطر جو اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں اور اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنے گھروں کو اپنے آراموں کو چھوڑنے والے ہیں۔اپنے گھروں کو وسیع کر دو اینٹوں کے ساتھ نہیں بلکہ دلوں کے ساتھ۔مکان صرف اینٹوں ہی کے ساتھ وسیع نہیں ہوتے بلکہ دلوں کی وسعت کے ساتھ وسیع ہوتے ہیں۔دل اگر تنگ ہو تو کھلے سے کھلا مکان تنگ ہو جائے گا۔اور دل اگر وسیع ہو تو تنگ مکان بھی وسیع معلوم ہو گا تو اپنے مکانوں کو کھلا کر دو اور دل کے کھلا کرنے کے ساتھ کھلے کرو۔دنیا کا تمام کارخانہ تعاون کے ساتھ چل رہا ہے۔اگر تعاون نہ ہو تو تمام کارخانہ بگڑ جاتا ہے۔اور تعاون کا بہترین ذریعہ آپس کے تعلقات ہیں۔جو جلسہ کی تقریب پر بھی پیدا ہوتے ہیں۔