خطبات محمود (جلد 10) — Page 24
24 دل کی قربانی بغیر نفس کی قربانی کے قبول نہیں کی جاسکتی اور دل کی قربانی بغیر ظاہری قربانی کے نہیں ہو سکتی۔ اس لئے احمدی جماعتوں کے امراء پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کا فرض ہے کہ لوگوں کے ارادوں اور خیالات کو بدل دیں اور انہیں حقیقی قربانی کا مفہوم سمجھا دیں۔ جب ان کے دل بدل جائیں گے تو وہی قربانیاں جن پر اب بعض شور مچاتے ہیں کہ بہت بڑا بوجھ پڑ گیا۔ انہیں نہایت حقیر اور ادنی معلوم ہوں گی۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہیں گے۔ اور چیخیں نکل جائیں گی کہ ہم نے تو کچھ نہیں کیا۔ دیکھو دلوں کے فرق کس طرح ہوتے ہیں۔ حضرت عمرؓ جیسا انسان جنہوں نے اپنی ساری عمر ہی ملت اسلامیہ کے غم اور فکر میں گھلا دی۔ جنہوں نے ہر موقعہ پر اعلیٰ سے اعلیٰ قربانی کی۔ گو عمل کے لحاظ سے ان کی قربانیاں حضرت ابوبکر ان کی قربانیوں تک نہ پہنچیں۔ لیکن ارادہ اور نیت کے لحاظ سے سب کی برابر تھیں۔ جب ابوبکر ا فوت ہوئے تو حضرت عمر الله عمر اللہ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ اور انہوں نے کہا۔ خدا تعالیٰ ابو بکر ان پر برکت کرے۔ میں نے کئی دفعہ کوشش کی کہ ان سے بڑھ جاؤں مگر کبھی کامیاب نہ ہوا۔ ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مال لاؤ تو میں اپنا نصف مال لے گیا اور خیال کیا کہ آج میں ابوبکر اللہ سے بڑھ جاؤں گا مگر ابو بکر اللہ مجھ سے پہلے عنه عنه وہاں پہنچے ہوئے تھے اور رسول کریم ﷺ کا چونکہ ان سے رشتہ بھی تھا اور جانتے تھے کہ انہوں نے کچھ نہیں چھوڑا ہوگا۔ اس لئے آپ دریافت فرما رہے تھے ابو بکر گھر کیا چھوڑا انہوں نے کہا گھر خدا اور رسول کا نام چھوڑا ہے۔ یہ کہہ کر حضرت عمر این روتے اور فرماتے میں اس وقت بھی ان سے نہ بڑھ سکا ۔ رضي ان کی قربانیاں تھیں۔ حضرت ابوبکر امین پہلے بھی دیتے رہتے تھے۔ لیکن جب خاص یہ ان رضی موقعہ آیا تو سب کچھ لا کر رکھ دیا۔ ایک طرف تو یہ لوگ تھے اور ایک طرف وہ لوگ ہیں جنہیں اپنے عنه عن مال کے دسویں حصہ کی قربانی کا بھی موقعہ نہیں ملتا اور کہتے ہیں ہم لٹ گئے۔ حضرت عمر اللہ جب فوت ہونے لگے تو بار بار ان کی آنکھیں پرنم ہو جاتیں اور کہتے خدایا میں کسی انعام کا مستحق نہیں ہوں میں تو صرف یہی چاہتا ہوں کہ سزا سے بچ جاؤں۔ ۴۔ اسی طرح حضرت ابوبکر اللہ کے متعلق آتا ہے کہ آپ باوجود اس قدر قربانیوں کے پرندوں کو رشک کی نظر سے دیکھتے اور فرماتے۔ یہ کیا ہی خوش قسمت ہیں کہ خدا تعالیٰ کے عذاب سے بچے ہوئے ہیں مگر ہم خطرہ میں ہیں۔ ۵۔ کیا تم سمجھتے ہو حضرت ابو بکر الین کو ہماری طرح حاجتیں نہ تھیں۔ کیونکہ وہ بھی انسان تھے مگر ان کی جو چیز بدلی ہوئی تھی وہ ان کا دل تھا اور وہ جانتے تھے کہ بیعت کا کیا مفہوم ہے اس لئے وہ بڑی سے بڑی قربانی