خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 271

271 تک کہ رسول بھی ان چیزوں سے متاثر ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں آتا ہے کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جو فوت نہ ہوا ہو سب فوت ہوتے چلے آئے ہیں۔اسی طرح تمام انبیاء کھاتے پیتے سوتے رہے ہیں۔وہ کپڑوں کے بھی محتاج تھے۔کھانے پینے کے بھی محتاج تھے اور سردی گرمی سے بھی متاثر ہوتے تھے بڑھاپا بھی ان پر آیا۔پس اس دنیا میں جنت کے ہرگز یہ معنے نہیں کہ کسی کو ظاہری کپڑوں کی ضرورت پیش نہ آئے اور کھانے پینے کا محتاج نہ ہو۔اصل بات یہ ہے کہ مذہب روحانیت کے متعلق گفتگو کرتا ہے اور باقی امور جو طبعی اور تمدن دنیا کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ان پر مذہب کا کام نہیں کہ روشنی ڈالے ہاں جتنے حصہ پر روحانیت و اخلاق کا اثر ہوتا ہے اتنے حصہ پر بے شک وہ روشنی ڈالتا ہے۔وہ پس مومن جنت کا وارث نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ روحانی موت سے باہر نہ ہو جائے اور روحانی موت ارتداد کا نام ہے۔جو شخص ارتداد سے بالا ہو جائے وہ جنت میں ہے۔دنیا کا قانون بدل جائے تو بدل جائے لیکن اس مومن کے ایمان میں کسی قسم کا تغیر نہیں واقع ہو تا ایسا شخص اسی دنیا میں جنت میں ہے۔اسی طرح وہ مومن بھی جنت میں ہے جس پر بڑھاپے کا اثر نہ ہو روحانی طور پر بڑھاپے کے کیا معنے ہیں اس کے یہ معنے ہیں کہ اس میں جو پہلے خدا تعالی کی راہ میں ہمت اور اخلاص کا جوش ہو اس میں کمی واقعہ ہو جائے لیکن جنت تو وہ مقام ہے کہ جہاں کبھی زوال نہیں آسکتا۔اسی طرح مومن بھی وہی جنت میں سمجھا جائے گا جس پر بڑھاپے کا زمانہ نہ آئے۔یعنی اس کی ہمت اور اخلاص میں روز بروز ترقی ہو۔اسی طرح جنتی کبھی ننگے نہ ہوں گے۔اس کے یہ معنے ہیں کہ ان کے تقویٰ کا جامہ چاق نہیں ہوتا۔ان کی محبت الہی میں کمی نہیں آتی۔اگر خدا کی محبت جو حقیقی تقویٰ ہے اس میں فرق آجائے جو محبت پہلے ہو نہ رہے تو وہ شخص جنتی نہیں کہلائے گا۔پھر جنتی کبھی بھوکے اور پیاسے نہیں ہوں گے اس کے یہی معنے ہوں گے کہ کھانے سے مراد شریعت کے ظاہری علوم ہیں اور پانی سے مراد شریعت کے باطنی علوم ہیں۔ظاہری علوم کا تو کھانا عقل کی تسلی کے لئے دیا جاتا ہے اور دل کی تسلی اور محبت کی ترقی کے لئے باطنی علوم کا پانی پلایا جاتا ہے۔جس انسان کو یہ مقام حاصل ہو اس پر ایسے علوم کھلتے ہیں کہ جن سے ایک طرف عقل تسلی پائے اور دوسری طرف محبت ترو تازہ اور شاداب ہو۔ایسا شخص جنتی کہلائے گا۔یعنی وہ کبھی بھوکا