خطبات محمود (جلد 10) — Page 242
242 27 حضرت مسیح موعود کا ایک زبردست نشان (فرموده ۱۲۲ اکتوبر ۱۹۲۶ء) تشهد ، تعوز اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے دو ہی کامل راستے ہیں اور وہ دونوں دو شہادتیں ہیں جن میں سے ایک شہادت تو اپنے نفس کی ہے کہ انسان اپنے نفس سے یہ بات حاصل کرتا ہے کہ کوئی اللہ ہے اور اس پر ایمان لانا ضروری ہے اور دوسری شہادت غیر کی ہے۔ان دونوں راستوں کے سوا اور کوئی راستہ نہیں جو انسان کو خدا تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات پر کامل یقین کرا سکے۔عقل انسانی بھی ایک حد تک رہنمائی کرتی ہے۔اور انسان اس کی رہنمائی سے سمجھتا ہے کہ شائد میں نے مدعا کو پالیا۔لیکن چونکہ وہ ناقص ہوتی ہے اور اس کی رہنمائی ایسی محدود ہوتی ہے کہ انسان اپنے خیال میں ایمان کے اعلیٰ مرتبہ پر پہنچ چکا ہوتا ہے لیکن وہاں پہنچ کر بھی ایسا حادثہ ہو جاتا ہے جس سے اسے محسوس ہو جاتا ہے کہ میرا ایمان کچھ نہ تھا اور ایک ہی دن میں اسے اپنی غلطی اور کمی کا اندازہ ہو جاتا ہے۔اگر صبح کے وقت وہ اپنے آپ کو سلوک اور مدارج پر چلتا ہوا خیال کرتا ہے تو شام کو شکوک کی اندھیری سے اس کا دل اڑتا پھرتا ہے۔لیکن جو وجود پہاڑ کی طرح ثابت ہوتے ہیں۔وہ اپنا قدم آگے ہی اٹھاتے ہیں اور وہ وہی ہوتے ہیں جو اپنے نفس کی شہادت سے اپنے ایمان کو کامل بناتے ہیں۔ایسے لوگوں کو نفس کی شہادت سے ایسا پختہ ایمان حاصل ہوتا ہے کہ وہ ہر حالت میں اس پر قائم رہتے ہیں۔یہ نہیں کہ وہ اتار چڑھاؤ سے بچے ہوتے ہیں نہیں بلکہ ان پر بھی اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔مگر وہ اس قسم کے اتار چڑھاؤ سے ہر قسم کے ظن اور شک سے محفوظ رہتے ہیں۔ایک وقت ان کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ساری دنیا ان کے قدموں پر آپڑی ہے۔اور وہ ایسا محسوس کرتے ہیں