خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 240

240 کی روحانی حالت اس درجہ کی نہیں ہو گئی کہ وہ اسے محسوس ہو۔لیکن یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس میں اثر ہی نہیں۔تبلیغ میں اثر ہے اور تبلیغ کرنے سے ضرور فائدہ پہنچتا ہے۔ایک یہی فائدہ کیا کم ہے کہ وہ ان بدیوں سے بیمار نہیں ہو تا جن سے وہ دوسروں کو روکتا ہے۔اور اس طرح وہ ایک بیمار شخص کی طرح ہو جانے سے بچ جاتا ہے۔بسا اوقات دیکھا گیا ہے کہ طبیب بیماری کا علاج نہیں کرتا بلکہ بیماری کو روکتا ہے۔اسی طرح تبلیغ کا حال ہے کہ گمراہی میں جو ترقی کر رہا تھا وہ رو کی گئی۔اور یہ بھی ایک فائدہ ہوتا ہے جو تبلیغ سے پہنچتا ہے کہ انسان گمراہی سے بچ جاتا ہے۔اور ایسے ہزاروں ثبوت جماعت میں مل سکتے ہیں کہ جو ان فوائد کو پارہے ہیں۔اور ان کے اندر یہ باتیں پیدا ہیں۔پس اسی سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ روحانی سلسلسہ ہے اور جو خدا کے سلسلہ ہوتے ہیں ان کی ظاہر علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ خدا کے کلام سے مشرف ہوتے ہیں اور ان کو قبولیت دعا ملتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی حفاظت ان کے ہمراہ رہتی ہے۔پھر تبلیغ کا یہ فائدہ بھی ہے کہ جو تبلیغ کرتے ہیں خدا ان کو ضائع نہیں کرتا۔جو دوسروں کا خیال رکھتے ہیں خدا ان کا خیال رکھتا ہے ان کے علم میں اضافہ ہوتا ہے ان کا عرفان بڑھتا ہے ان کا دشمن پر رعب ہوتا ہے اور یہ سب باتیں ہماری جماعت میں میسر ہیں۔پیس تبلیغ سے آہستہ آہستہ ایک شخص ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے جس پر وہ بالآخر محسوس کر لیتا ہے کہ اسے ہدایت مل رہی ہے۔پس ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ وہ اس سے غفلت نہ کریں اور کچھ بھی ہو اسے چھوڑیں نہیں۔اگر نشانات صداقت نہ ملیں تو تھک نہیں جانا چاہئے۔کیونکہ یہ ابتدائی حالت ہوتی ہے اور جب یہ حالت گذر جاتی ہے تو از خود یہ محسوس ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔لیکن اگر کوئی شخص ایسے طور پر اسے چھوڑ دیتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے بے اثر شے ہے یا تبدیلی پیدا نہیں ہوتی۔تو یہ شیطان کا دھوکہ ہے۔جو نیکی سے روکنے والا ہوتا ہے۔پس اس بات سے گھبرانا نہیں چاہئے کہ اس کا اثر ظاہر نہیں ہو رہا۔وقت جب آتا ہے آپ ہی یہ ظاہر ہو جاتا ہے۔اور انسان اس کو جان نہیں سکتا کہ اس کے اندر استعداد کتنی تھی اور پھر اس کے اثرات کے ظاہر ہونے کے لئے مدت کتنی چاہئے۔اس لئے تبلیغ سے رکنا نہیں چاہئے۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم میں خود غلطیاں ہیں لوگوں کو کیسے سمجھائیں۔مگر ان کو جاننا چاہئے کہ ان کا یہ خیال بھی غلط ہے کیونکہ جو دوسروں کو سمجھاتا ہے وہ نیکی کرتا ہے۔اس لئے تبلیغ کرنا نیکی کرتا ہے اور اس سے رکنا غلطی ہے اور ایسی غلطیاں درست نہیں ہوتیں۔جب تک نیکیاں