خطبات محمود (جلد 10) — Page 227
2 اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتا۔اور بعض نے تو بالصراحت کہا۔چنانچہ ایک جگہ سے رپورٹ آئی جس میں ایک شخص کے متعلق لکھا تھا کہ وہ کہتا ہے۔فاسق و فاجر کے پیچھے تو نماز ہو سکتی ہے لیکن فلاں کے پیچھے نہیں ہو سکتی۔مگر میرا مذہب یہ ہے اور یقینا یہ صحیح ہے کہ اگر کوئی یہاں تک بھی دیکھ لے کہ اس کے کسی عزیز یا رشتہ دار کو کسی نے قتل کر دیا ہے تو اس کے پیچھے بھی نماز پڑھ لینی جائز ہے۔ہاں اگر وہ اکثر رائے سے امامت سے الگ کر دیا جائے۔تو پھر اس کے پیچھے نماز درست نہیں۔ایسے موقعہ کے لئے امام کو بھی حکم ہے کہ وہ امامت سے ہٹ جائے یا پھر اس وقت اس کے پیچھے نماز درست نہیں جب اس شخص پر عدالت کی طرف سے الزام لگا دیا جائے۔اور اس کو اس فعل کا ملزم قرار دیا جائے۔ان حالات کو دیکھ کر مجھے کہنا پڑتا ہے کہ ان امور میں ہمارے لئے ابھی اور اصلاح کی ضرورت ہے اور ساتھ ساتھ دعا بھی کرنی چاہئے۔کیونکہ دعا کے بغیر ہم خدا تعالیٰ کی توجہ کو کھینچ نہیں سکتے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔لوگوں سے کہہ دو کہ وہ خدا کو نہیں پکاریں گے تو خدا تعالیٰ کو ان کی پرواہ ہی کیا ہے۔قل ما يعبوا بكم ربى لولا دعاؤكم (الفرقان (۷۸) سلسلہ کے پھیلانے کے یہی معنے ہیں کہ سب سلسلوں کو تباہ کر دیا جائے اور اگر ہم کچھ نہ کریں تو یہ خیال کرنا کہ خدا تعالیٰ ہمارے لئے ساری دنیا کو تباہ کر دے گا کیسی بے وقوفی کی بات ہے ہمیں اپنی طرف سے کوشش کا کوئی تے رہے۔دقیقہ فروگزاشت نہ کرنا چاہئے پھر خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت ہمارے لئے جوش میں آئے گی۔اس کے بعد میں یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ پرسوں خبر آئی ہے مولوی محمد احسن صاحب فوت ہو گئے ہیں۔ان کا اختلاف ایسی عمر میں ہم سے ہوا۔جب انسانی عقل کمزور ہو جاتی ہے اور قومی میں فتور واقع ہو جاتا ہے۔تاہم وہ باوجود اختلاف کے مجھے خط لکھتے رہے اور اپنا تعلق ظاہر کرتے بیماری کے ان آخری ایام میں بھی انہوں نے لکھا کہ کوئی آدمی بھیجیں۔مگر میں نے اراد تا خاموشی اختیار کی کہ کہیں کوئی اور فتنہ نہ پیدا ہو جائے۔ان کی وفات کے متعلق جس شخص نے رپورٹ دی ہے وہ لکھتے ہیں کہ وہ اپنی وفات کے قریب بار بار آپ کو یاد کرتے تھے۔ان کے لئے بعض مجبوریاں بھی تھیں۔ان کی حالت ایک فالج زدہ شخص کی سی تھی۔وہ نہ اپنے آپ پاخانہ کر سکتے تھے نہ پیشاب اور بڑھاپے میں ایسی باتیں پیدا ہو جاتی ہیں ایسی حالت میں جب کہ وہ دوسروں کے سہارے زندگی گزارتے تھے انہوں نے کمزوری دکھائی وہ قابل معافی ہو سکتی ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے صحابی تھے گو بعد میں ان کو ہمارے ساتھ اختلاف ہو گیا۔مگر یہ جو عقیدت اور اخلاص ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تھا وہ اپنے رنگ میں خاص تھا۔وہ وہ ہر بات میں سے حضرت صاحب کی صداقت کا ثبوت نکالا کرتے تھے۔چنانچہ ان کی اس عادت کو دیکھ کر ایک