خطبات محمود (جلد 10) — Page 214
214 مد نظر رکھتے ہوئے یہی سمجھتا ہوں کہ در حقیقت شکایت کرنے والے کو اصل بات سمجھ نہیں آئی۔کیونکہ پیشگوئیوں کا مضمون ایسا دقیق ہوتا ہے کہ اس کے بیان کرنے میں کئی الجھنیں رہ جاتی ہیں۔پھر بسا اوقات مضمون تو واضح ہوتا ہے لیکن سننے والے اپنے پرانے خیالات اور آرا کی وجہ سے اس کو اور رنگ دے لیتے ہیں۔دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے دعوئی مجددیت و نبوت سے لے کر برابر اپنی وفات تک یہ سمجھاتے رہے کہ مسیح موعود سے آپ کی کیا مراد ہے۔لیکن باوجود اس کے آج تک ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو کہتے ہیں کہ آپ تاریخ کے قائل تھے۔اور صرف ناواقف ہی ایسا نہیں سمجھتے اور ایسا نہیں کہتے بلکہ واقف بھی ایسا کہتے ہیں۔یعنی ان لوگوں میں سے بھی بعض یہی بات کہتے ہیں جو سلسلے کے لٹریچر سے خوب واقف ہیں۔پادری زدیم صاحب جو عیسائیوں میں اسلامی لٹریچر کے ماہر ہونے کے لحاظ سے بہت مشہور ہیں اور عربی جانتے ہیں۔ایک دفعہ قادیان آئے اور باتوں کے سوا ان کے دل میں یہ بھی تھا کہ میں چل کر اس رنگ میں گفتگو کروں گا کہ آیا آپ لوگ تناسخ اور ارواح کے تصرف کے قائل ہیں یا نہیں۔اگر کہا گیا نہیں تو کہوں گا تو پھر مرزا صاحب مسیح موعود کیسے ہو سکتے ہیں۔اور اگر اس کا اقرار کیا تو کہوں گا یہ تو تناسخ ہے۔دوسرے لوگ ان سے ملتے اور مختلف باتیں کرتے۔وہ ان کے سامنے کچھ کچھ اعتراض بھی پیش کرتے مگر کہتے بعض سوال دل میں رکھے ہیں جو میں خلیفہ المسیح سے ہی پوچھوں گا۔وہ سمجھتے تھے یہ سوال ایسے ہیں جن کا کوئی جواب ہی نہیں۔اس لئے اچانک اس طرح پیش کروں گا جیسے بم پھٹتا ہے۔غرض وہ مجھ سے ملے اور ادھر ادھر کی باتوں کے درمیان یہ سوال مجھے پر کیا کہ کیا آپ تاریخ اور ارواح کے تصرف کے قائل ہیں۔ادھر انہوں نے یہ کہا ادھر میں نے سمجھا کہ ان کا کیا مطلب ہے اور اس طرح کیا اعتراض کرنا چاہتے ہیں۔میں نے انہیں سمجھایا حضرت صاحب کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا جو تھا وہ اس طرح نہیں تھا کہ مسیح کی روح آپ میں حلول کر گئی ہے بلکہ اس طرح تھا کہ آپ روحانی ترقی کر کے اس حد تک پہنچ گئے تھے کہ حضرت مسیح کے مثیل ہو گئے تھے تو پادری زدیمر ہمارے سلسلے اور ہمارے سلسلے کے لٹریچر سے خوب واقف ہیں۔وہ ہمارے متعلق اپنے رسالہ مسلم ورلڈ" میں نوٹ بھی لکھتے رہتے ہیں۔مگر باوجود ہمارے لڑیچر سے واقف ہونے کے پھر بھی دھوکہ کھا گئے۔غرض بعض وقت ایسا ہوتا ہے کہ بات تو واضح ہوتی ہے لیکن سمجھنے والا اس کو اچھی طرح نہیں سمجھ سکتا۔اس کے سماع پر پرانے خیالات ایسے جاری ہوتے ہیں کہ فرق نہیں کر سکتا اور پھر