خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 194

194 جلوا دیں۔اور میں نے خود دیکھا کہ آپ نے چند بڑے بڑے بستے جن میں کاغذات وغیرہ تھے نکلوا کر جلا دئیے۔انہیں میں ایک وہ بستہ بھی جلا دیا جس میں گالیوں کے خطوط تھے۔بعد ازاں جب لوگوں کو پتہ لگا کہ اب وہ خطوط تو ان کے پاس ہیں نہیں جن کا مختلف کتابوں میں ذکر ہے تو بعض نے اعتراض بھی کئے کہ وہ خطوط کہاں ہیں۔مگر آپ نے اس بات کی پرواہ نہ کی۔کیونکہ یہ خدا کے بنائے ہوئے قانون ہیں اور احتیاط ہر ایک کے لئے ضروری ہے اور اس احتیاط سے کام لینا ہر ایک کا فرض ہے۔پس ردی سامان کو جلا دینا چاہئے اور بالکل اس بات کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے کہ نقصان ہوتا ہے۔کیونکہ اول تو یہ کوئی نقصان نہیں۔کیونکہ یہ روی ہی تو تھا۔لیکن اگر کچھ نقصان ہو بھی تو بھی جان کے مقابلہ میں اس کی کیا حقیقت ہے۔پس تمام روی سامان جلا دینا چاہئے۔چوہوں کو مارنا چاہئے۔زہر کی گولیاں ڈال کر یا چوہے دان رکھ کر اور جہاں تک ہو سکے اس مکان کو چھوڑ دینا چاہئے جس میں سے چوہے نکلے ہوں اور اس میں واپس نہ آیا جائے جب تک کہ یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اب اس میں خطرہ نہیں۔یہ سوال کہ مکانوں کو چھوڑ کر کہاں جائیں کوئی ایسا مشکل سوال نہیں۔شہر کے باہر کھلے میدان میں چھپر ڈال لئے جائیں۔آخر موت سے بڑھ کر یہ تکلیف دہ نہ ہوں گے۔اس لئے اپنی حفاظت اور اپنے عزیزوں کی خیر مناتے ہوئے باہر چلے جانا چاہئے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ بہ نسبت گھروں کے چھپروں میں تکلیف ہوگی۔خریدو فروخت میں بھی تکلیف ہوگی۔دھوپ کی شدت بھی ستائے گی۔تپش بھی ہوگی۔لو بھی چلے گی۔اور تکلیفیں بھی ہوں گی۔مگر اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ ان تکلیفوں کے برداشت کرنے سے ایک بہت بڑی تکلیف سے نجات بھی حاصل ہوگی۔اور نہ صرف خود کو ہی نجات ہوگی بلکہ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں اور قریبوں اور دوستوں کو بھی ہوگی اور پھر یہ تکلیفیں ہمیشہ رہنے والی تکلیفیں بھی نہیں عارضی اور وقتی ہیں۔پس ان کو برداشت کرنے سے نہیں ہچکچانا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں جب طاعون پڑی تو آپ نے قادیان سے باہر چلے جانے کا حکم دے دیا۔مجھے یاد ہے کہ لوگوں نے ڈھاب کے باہر اس طرف کھیتوں میں چھپر ڈال لئے تھے۔اور ان میں رہتے تھے۔اب بھی اگر ایسی ضرورت پیش آئے۔تو باہر چھپر ڈالے جا سکتے ہیں۔دوستوں کو چاہئے کہ جہاں وہ ان تدابیر سے کام لیں وہاں خصوصیت سے استغفار بھی کریں اور اپنے گناہوں کی معافی چاہیں۔کیونکہ طاعون عذابوں میں سے ایک عذاب ہے۔پس کثرت سے