خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 171

1-1 اس کے مقابلہ میں اگر اسلام کے ذریعہ خدا کے قرب کا دروازہ ہمیشہ کے لئے کھولا گیا تو اس کے ساتھ ہی کفر کا دروازہ بھی ہمیشہ کے لئے کھل گیا۔ پس ہر ہدایت کے ساتھ ضلالت برابر چلتی ہے۔ اور یہ دونوں پیرل لائن (PARALLEL LINE) پر متوازی چلتی ہیں۔ کیونکہ جو چیز پھدی بہ کثیرا " ہو گی وہ ساتھ ہی یضل بہ کثیرا " بھی ہو گی۔ اب اگر وصیت کا ۔ ت کا مسئلہ یضل بہ نہ ہو۔ ہوتا۔ تو عقل تسلیم نہ کرتی کہ بھلائی کا باعث بن سکتا۔ کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ جو چیز ہدایت کا باعث ہوتی ہے اس کے ساتھ ضلالت کا پہلو بھی ہوتا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کی سنت بدلا نہیں کرتی۔ " اب دیکھو وصیت کس طرح ٹھوکر کا موجب ہوئی۔ پہلے تو غیر احمدیوں کو اس سے ٹھوکر لگی انہوں نے کہا روپیہ کمانے کا ڈھنگ نکالا گیا ہے ورنہ کسی زمین میں دفن ہو کر کوئی بہشتی کیونکر ہو سکتا ہے۔ یہ بھی وہی بات ہوئی جو کئی مقامات پر بہشتی دروازہ بنا کر کہی جاتی ہے کہ جو اس دروازہ میں سے گذر جائے وہ بہشتی ہو گیا۔ اس طرح وصیت بہت سے لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب ہوئی۔ کیونکہ انہوں نے اس کی حقیقت اور مغز کو نہ سمجھا۔ وصیت کا ہرگز یہ منشاء نہ تھا کہ کوئی اس زمین میں دفن ہونے سے بہشتی ہو جائے گا۔ اگر کسی کافر کو رات کے وقت لوگ اس میں دفن کر جائیں یا کسی ہندو کو دفن کر دیا جائے۔ تو کیا وہ اس لئے جنتی ہو جائے گا کہ اس جگہ دفن کر دیا گیا ہے۔ ہرگز نہیں۔ نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ نشاء تھا۔ اور نہ خدا تعالیٰ کا کہ خواہ کوئی کسی طرح اس زمین میں دفن ہو جنتی ہو گا۔ بلکہ جو اصل منشاء تھا وہ یہ تھا کہ وصیت کے قواعد کو پورا کر کے جو داخل ہو گا وہ جنتی ہو گا گویا وصیت کے قواعد پورے کرنا علامت ہو گی اس بات کی کہ پورا کرنے والا بہشتی ہے جیسے قرآن کریم میں مومن کی علامتیں بتائی گئی ہیں کہ نماز کا پابند ہو۔ زکوۃ دے۔ حج کرے۔ خدا کی توحید پر ایمان لائے۔ رسولوں پر ایمان لائے تو جنتی ہو گا۔ مگر دوسری جگہ کہا محمد ﷺ پر ایمان لانے والے جنتی ہیں۔ اس کے یہی معنی ہیں کہ ان شرائط کے ساتھ جو ایمان لائیں وہ جنتی ہیں۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ رکھا کہ جو ان شرائط کے ساتھ اپنے آپ کو پیش کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ اسے جنتیوں میں شمار کرتا ہے۔ کیونکہ انسان کا دل اس بات کا خواہاں ہوتا ہے کہ اسے کس طرح پتہ لگے کہ خدا کی رضا اسے حاصل ہو گئی ہے اور ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ کی مرضی اور منشاء معلوم کرنے کے ذرائع مختلف ہوتے ہیں۔ اس زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں کی تڑپ معلوم کر کے وصیت کے قواعد کے ذریعہ بتایا کہ اگر تم میں ایسا اخلاص ایسا ایمان اور