خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 157

157 کے لئے ایک سب کمیٹی بٹھائی اس کی رپورٹ اب شائع ہوئی ہے۔اس میں بار بار یہ بات تسلیم کی گئی ہے۔کہ عیسائیت کا مقابلہ کرنے والی اگر کوئی جماعت ہے تو وہ احمدی جماعت ہی ہے۔اس سب کمیٹی نے سوائے ہماری جماعت کے مذہبی طور پر کسی کو کوئی وقعت نہیں دی۔گو صریح لفظوں میں اس بات کا اعتراف نہیں کیا گیا کہ احمدیت کا مقابلہ عیسائیت کے لئے مشکل ہے مگر یوں کیا ہے کہ احمدی جماعت کے لوگ ایسی شرارت کرتے ہیں کہ ہمارا مقابلہ ہماری ہی تعلیم کے ذریعہ کرتے ہیں۔ہم کہتے ہیں یہ عجیب بات ہے کہ عیسائیت کی تعلیم عیسائیوں کے ذریعہ تو کوئی اثر نہیں کرتی لیکن جب ہم اس کو پیش کریں تو اس کا اثر ہو جاتا ہے۔اور اثر بھی ایسا جو عیسائیت کے خلاف ہوتا ہے۔۔اب دوسری چیز زمین ہے۔مذہب کے لئے زمین کیا ہے۔وہ افراد جو اس تعلیم کو قبول کرتے ہیں۔جن کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔جو نہیں مانتے وہ ایسے ہوتے ہیں جن میں بیج نہیں پڑا ہوتا۔ان کے متعلق اس وقت بحث نہیں لیکن جہاں بیج پڑ گیا اس کی فکر ضرور ہو گی کہ اگر زمین اچھی نہیں تو پیچ ضائع ہو جائے گا۔اب یہ سوال کہ اچھی زمین موجود ہے یا نہیں اس کا جواب میں نہیں دے سکتا نہ کوئی اور واحد شخص دے سکتا ہے اور نہ کوئی جماعت دے سکتی ہے۔کیونکہ آپ میں سے ہر فرد کے لئے دوسروں کے قلوب کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔یہ پتہ خدا تعالیٰ ہی لگا سکتا ہے جو عالم الغیب ہے۔یا ایک حد تک اپنے نفس کا اندازہ ہر شخص کر سکتا ہے۔لیکن میں اگر آپ لوگوں کے قلوب کا اندازہ نہیں لگا سکتا تو یہ کہہ سکتا ہوں کہ اپنے قلوب کی ایسی حالت بنائیں کہ وہ اچھی اور اعلیٰ درجہ کی زمین کی طرح ہو جائیں۔تاکہ ان میں جو بیج پڑ چکا ہے وہ ضائع نہ ہو جائے بے شک میں قلب کی صحیح کیفیت کا اندازہ نہیں لگا سکتا لیکن آپ کو قلب کی صحیح کیفیت بنانے کی نصیحت تو کر سکتا ہوں۔اور یہ اس وقت کرتا ہوں۔آپ لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کبھی احمدیت ترقی نہیں کر سکتی جب تک طبائع میں اس کی قبولیت کا مادہ نہیں ہے۔تعلیم خواہ کیسی اعلیٰ ہو ردی اور فضول ہو جائے گی۔اب دیکھو رسول کریم ﷺ نے جو محنت ابی ابن سلول وغیرہ کے متعلق کی وہ کیا پھل لائی۔ان لوگوں میں منافقت پیدا ہوئی۔اسلام کے خلاف ریشہ دوانیاں ہوئیں۔اسلام کو نقصان پہنچانے والے پیدا ہوئے۔تو اپنے دلوں کو ایسا بنانا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ جو بیچ بھیجا ہے۔وہ ان میں نشوو نما پا سکے۔تیسری چیز زمین کی تیاری ہے۔یعنی تعلیم و تربیت یہ دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک وہ کہ جس کا منبع انسان کا اپنا نفس ہوتا ہے۔اور دوسری وہ جو دوسروں کی طرف سے آتی ہے۔باہر سے تعلیم و تربیت جو آتی ہے۔اس کا تعلق مجھ سے جماعت کے واعظوں اور امراء سے اور والدین اور استادوں