خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 102

102 وقت بندہ پر خدا تعالیٰ کی اطاعت فرض ہے۔لیکن بعض دن ایسے ہوتے ہیں۔جن میں خدا تعالیٰ اسی طرح بندہ کے قریب ہو جاتا ہے۔جس طرح ماں باپ بچہ کے سامنے آجاتے ہیں۔ان دنوں میں بندہ کو اطاعت اور فرمانبرداری میں اسی طرح زیادتی کرنی چاہئے جس طرح ماں باپ کے سامنے آنے سے ان کے ادب اور محبت میں زیادتی ہوتی ہے۔آخر ایسا زمانہ تو بندہ پر کبھی نہ آئے گا کہ خدا تعالیٰ کو ان مادی آنکھوں سے دیکھ سکے۔خدا خدا ہی ہے اور بندہ بندہ ہی ہے جب انسان ان آنکھوں سے خدا تعالیٰ کی ساری مخلوق کو بھی نہیں دیکھ سکتا تو خدا تعالیٰ کو کہاں دیکھ سکے گا۔پس انسان خواہ کتنی ہی ترقی کر جائے۔جسمانی آنکھوں سے خدا تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکے گا۔ہاں روحانی آنکھوں سے دیکھے گا اور اس میں ترقی کرتا جائے گا۔اب اگر کوئی یہ سمجھے کہ چونکہ خدا تعالیٰ کی جسمانی رویت حاصل نہیں ہو سکتی۔اس لئے وہ کیفیت کس طرح پیدا ہو سکتی ہے۔جو ماں باپ کے سامنے آنے سے اس کے دل میں ان کی محبت اور ادب کے متعلق پیدا ہوتی ہے تو وہ نادان ہے۔اللہ تعالی کی رویت روحانی آنکھوں سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔اور اس سے ایسا ہی تغیر انسان میں پیدا ہوتا ہے۔جیسا ماں باپ کو جسمانی آنکھوں کے سامنے دیکھنے سے اور اگر کوئی انسان روحانی آنکھوں سے خدا کو نہیں بھی دیکھ سکتا تو بھی اس میں یہ تغیر پیدا ہونا چاہئے دیکھو آخر ایک نابینا کے دل میں بھی ماں باپ کی محبت اور ادب کا جوش پیدا ہوتا ہے یا نہیں۔ایک نابینا بچہ کبھی ماں باپ کو نہیں دیکھ سکتا۔لیکن جب اسے ان کی آواز آتی ہے یا دوسروں سے سنتا ہے کہ ماں باپ پاس بیٹھے ہیں تو کیا اس کے دل میں دیسی ہی محبت جوش نہیں مارتی جیسی آنکھوں سے ماں باپ کو دیکھنے والے کے دل میں جوش مارتی ہے پس وہ شخص جسے یہ مقام حاصل نہیں کہ روحانی آنکھوں سے خدا تعالیٰ کو دیکھ سکے اسے یہ مقام تو حاصل ہے کہ دوسروں سے خدا تعالیٰ کے متعلق سن سکے اس لئے یہ کہنا بے جانہ ہو گا کہ اگر کسی میں ادنیٰ سے ادنی درجہ کا ایمان ہو۔تو بھی رمضان کے ایام میں اس کے دل میں وہی کیفیت پیدا ہونی چاہئے۔جو روحانی آنکھوں سے خدا تعالیٰ کو دیکھنے والے کے قلب میں پیدا ہوتی ہے۔اور جو ایسی ہی کیفیت ہے۔جیسی بچہ کے سامنے ماں باپ کے آنے پر اس کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔پس میں اپنی جماعت کو ان ایام کی طرف خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ان میں دوسرے ایام کی نسبت دینی احکام کا ادب اور احترام بہت زیادہ کریں۔اور ان میں خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں دوسرے ایام کی نسبت بڑھ جائیں۔دیکھو رمضان کے روزوں کی غرض کسی کو بھوکا یا پیاسا مارنا نہیں ہے۔اگر بھوکا مرنے سے جنت مل سکتی۔تو میں سمجھتا ہوں کافر سے کافر اور منافق سے منافق لوگ