خطبات محمود (جلد 10) — Page 96
96 لگاتا۔میرا اپنا روپیہ بھی دفتر میں سے ہو کر آتا ہے تاکہ کسی کو شبہ نہ پیدا ہو۔مگر بہرحال کچھ بھی ہو ان کا کوئی حق نہیں کہ میرے معاملات میں دخل دیں اور مجھ پر اعتراض کریں۔پھر ان کو یہ بھی خیال کرنا چاہئے۔کیا ہم اس قسم کے اعتراضات مولوی محمد علی صاحب پر نہیں کر سکتے۔کیا ہمارے پاس قلمیں نہیں ہیں۔لیکن باوجود اس کے کہ وہ شیشہ کے مکان میں بیٹھ کر ہم پر اعتراض کرتے ہیں۔ہم ان کے مقابلہ میں اس قسم کی روش اختیار نہیں کرتے۔جو ہماری شرافت پر دلالت کرتا ہے۔مولوی محمد علی صاحب مجھ سے زیادہ سفر بھی کرتے ہیں۔کبھی وہ اپنے دوستوں کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔کبھی اکیلے سفر کرتے ہیں۔مگر ہم نے کبھی اعتراض نہیں کیا۔کیونکہ ہم سمجھتے ہیں ہمیں کیا ضرورت ہے۔اعتراض کریں۔وہ کہیں جائیں یا نہ جائیں۔اکیلے جائیں یا آدمیوں کو ساتھ لے کر جائیں ہمیں کیا۔لیکن باوجود ہمارے اس رویہ کے ان کی طرف سے ذاتی اعتراضات کا سلسلہ برابر چلا جاتا ہے۔اب میری شادی کا ہی معاملہ ہے۔اس میں مجھ پر اعتراض کئے جا رہے ہیں۔ہم اگر ان کی شادیوں کے متعلق لکھیں۔تو ان کی بہت زیادہ ہتک ہو سکتی ہے۔لیکن میں اس طریق کو کمینگی سمجھتا ہوں اس لئے اس میں میں ہاتھ ڈالنا نہیں چاہتا۔مگر انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے والے بھی موجود ہیں۔پھر میں ان سے پوچھتا ہوں۔میری شادی کون سی خلاف شریعت ہے۔باقی رہیں شادی کی وجوہات۔میں کہتا ہوں رسول کریم ﷺ کی نو شادیوں کے متعلق جو وجوہات وہ بیان کریں گے۔وہی وجوہات خدا کے فضل سے اپنی شادی کی میں بیان کر سکتا ہوں۔ایسی حالت میں میں پوچھتا ہوں۔کیوں نہیں تم محمد رسول اللہ اللہ پر اعتراض کرتے اور کیوں نہیں تم صحابہ پر اعتراض کرتے؟ کیونکہ انہوں نے بھی ایک سے زیادہ نکاح کئے۔کیا تم اسی لئے اعتراض نہیں کرتے کہ تمھارے محمد رسول اللہ اللہ پر اعتراض کرنے سے ساری دنیا تمھارے پیچھے پڑ جائے گی۔مگر حقیقت یہ ہے کہ تم میری آڑ میں محمد رسول اللہ پر اعتراض کر رہے ہو۔پھر چاروں خلفاء کی شادیوں کی وجوہات بیان کرو۔کیونکہ چاروں نے ایک سے زیادہ بیویاں کیں۔رسول کریم یا اس کے متعلق اگر نرینہ اولاد کی وجہ بیان کرو۔تو یہ وجہ بھی درست نہیں ہو سکتی۔کیونکہ رسول کریم ان کو خدا نے پہلے ہی ما کان محمدا با احد من رجالکم (الاحزاب ۴۱) میں خبر دے دی تھی کہ آپ کے ہاں اولاد نرینہ نہیں ہو گی۔لیکن اس کے بعد بھی آپ نے نکاح کئے۔پھر اگر کہو دین سکھانے کے لئے شادیاں کیں۔تو حضرت عائشہ کے متعلق آپ فرما چکے تھے کہ