خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 239

239 اثر جلدی ظاہر ہونے لگے۔پس میرے نزدیک ہر وہ شخص جو اس کو مان لیتا ہے۔ضرور اپنے اندر ایک تبدیلی پیدا کر لیتا ہے۔خدا کے انبیاء بارش کی طرح ہوتے ہیں۔لوگوں کے کپڑے خواہ کتنے ہی چکنے ہوں مگر پھر بھی اس بارش سے کچھ نہ کچھ تری پاہی لیتے ہیں۔یہاں بھی یہی بات ہے۔تبلیغ خواہ کتنی ہی تھوڑی ہو اپنا اثر ضرور کرتی ہے اور ایک تبدیلی ضرور پیدا کرتی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ وہ اثر اور تبدیلی نظر نہ آئے تو جب کہ تبلیغ ضرور تبدیلی پیدا کرتی ہے تو ایک شخص باوجود اس بات کے اگر اس کو چھوڑ دیتا ہے تو یہ ایک نفس کا دھوکا ہے۔اور ایسا خیال ایک شیطانی وسوسہ ہے جو اسے تبلیغ سے روکنے کے لئے پیدا ہوا ہے۔تبلیغ سے ضرور اثر پیدا ہوتا ہے۔حتی کہ منافقت کے رنگ میں بھی اگر تبلیغ کی جائے تو یہ منافقت کی تبلیغ بھی اثر پیدا کرتی ہے۔اور ایسا منافق انسان بھی ان سب فوائد سے حصہ پاتا ہے۔جو تبلیغ کے ہیں۔کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کے قانون کے برخلاف ہے کہ ایک شخص بارش میں کھڑا ہو اور تری نہ لے۔پس منافق بھی جو کہ منافقت سے تبلیغ کرتا ہے۔جب اس سے حصہ پاتا ہے تو جو لوگ دیانت کے ساتھ تبلیغ کرتے ہیں وہ کیوں نہ پاتے ہوں گے۔آنکھیں منور ہوں یا نہ ایک شخص روشنی سے ضرور حصہ لیتا ہے۔ایک نابینا بھی روشنی سے فائدہ لیتا ہے۔سورج جب نکلتا ہے تو اس کی آنکھیں ایک خاص قسم کا تغیر محسوس کرتی ہیں۔جو اندھیرے اور روشنی میں اس کو تمیز پیدا کرا دیتا ہے پھر اس کے جسم پر کچھ اس قسم کی کیفیات ہو رہی ہوتی ہیں کہ وہ روشنی کو محسوس کر لیتا ہے۔یا پھر اس کے اندر فوائد پہنچ رہے ہوتے ہیں۔کئی قسم کی بیماریاں ہیں جو سورج سے دور ہوتی ہیں۔تو یہ بالکل ناممکن ہے کہ ایک شخص اپنی سلسلہ میں داخل ہو اور پھر وہ کورا رہے۔بیشک اسے فائدے ہوتے ہیں۔لیکن چونکہ اس کے احساسات باریک ہوتے ہیں اس لئے وہ شروع شروع میں بلکہ بعض اوقات انجام تک بھی ان کو محسوس نہیں کرتا۔اور وہ اسے نظر نہیں آتے۔پس ان کے متعلق یہ خیال کرنا که ضرور نظر آجائیں۔ایک غلطی ہے۔موسیٰ کی قوم نے کہا تھا کہ خدا اگر نظر آجائے تو مان لیں گے۔دیکھو خدا تعالیٰ تو نظر آتا ہے۔لیکن باوجود اس کے وہ آنکھوں سے پوشیدہ ہے۔جس طرح اللہ نظر نہیں آتا اسی طرح ہدایت بھی نظر نہیں آتی۔اور جس طرح اللہ تعالیٰ نشانوں سے ظاہر ہوتا ہے اسی طرح ہدایت بھی نشانوں سے ظاہر ہوتی ہے۔پس جو شخص یہ کہتا ہے کہ ہدایت محسوس نہیں ہوتی اور اس کا کوئی ثبوت نہیں۔وہ درست بات نہیں کہتا وہ یہ تو کہہ سکتا ہے کہ وہ ان کے مقام پر نہیں پہنچا جو اسے نظر آئے۔اور اس