خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 237

237 مایوس ہوتے ہیں تو اس سے بالکل ہی محروم ہو جاتے ہیں بلکہ بعض اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ بالکل دروازہ پر پہنچ کر لوٹ جاتے ہیں۔اور اس طرح جو ہدایت پاچکے ہوتے ہیں اس کو بھی نقصان پہنچا لیتے ہیں۔وہ تو ابتدائی حالت سے یہ سمجھتے ہیں کہ ہدایت نہیں پا رہے۔لیکن حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ ہدایت پا رہے ہوتے ہیں مگر چونکہ یہ لطیف ہوتی ہے اس لئے نہیں محسوس ہوتی اس لئے وہ اسے مایوس ہو کر چھوڑ دیتے ہیں۔لیکن در حقیقت ہدایت ان کے اندر ہوتی ہے دل کے اندر ہوتی ہے بلکہ فس کے ذرہ ذرہ کے اندر جاری و ساری ہوتی ہے۔مگر سمجھتے ہیں کہ وہ ان کے اندر نہیں ہے۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہدایت لطیف چیز ہوتی ہے۔اور وہ شروع شروع میں اسے اپنے اندر محسوس نہیں کرتے۔عام لوگ تو اسے سمجھ نہیں سکتے۔لیکن اطباء نے اس کو اچھی طرح سمجھا ہے۔وہ جب ایک مریض کو نسخہ دیتے ہیں تو اسی اصول کے ماتحت دیتے ہیں کہ آہستہ آہستہ فائدہ ہو گا۔طبیب جب دوا دیتا ہے تو اس کا ہرگز یہ منشاء نہیں ہو تا کہ دو یا تین یا چار یا پانچ دن کے بعد اس کا فائدہ ہونے لگے گا بلکہ یہ منشاء ہوتا ہے کہ چھ دن کے بعد تم کو محسوس ہونے لگے گا کہ فائدہ ہوتا ہے۔اسی طرح روحانی باتوں کا حال ہے۔لیکن بسا اوقات انسان کے لئے اس بات کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اسے فائدہ ہو رہا ہے کیونکہ اس کے احساسات اتنے کند ہوتے ہیں کہ وہ سمجھنے سے قاصر رہ جاتا ہے۔مگر بات یہ ہے کہ اگر اس نکتہ کو لوگ سمجھ لیں تو سچائی کے معلوم کرنے میں انہیں کوئی تکلیف نہ ہو۔سچائی کے دیکھنے کے لئے لوگوں کو چاہئے کہ وہ یہ دیکھنے کی کوشش نہ کریں کہ ہم پر کیا اثر ہوتا ہے۔بلکہ یہ دیکھیں کہ ہم سے جو اعلیٰ قابلیت ہے اس پر کیا اثر ہوتا ہے بعض لوگ یہ دیکھ کر کہ ہمارے اندر کوئی تغیر پیدا نہیں ہوا۔اس بات کو ہی چھوڑ دیتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہم میں جو اس کا اثر نہیں تو شائد اس میں کچھ اثر ہی نہیں ہے۔حالانکہ ہدایت کا اثر بھی دوائی کی طرح ہوتا ہے۔بعض دفعہ دنوں میں ظاہر ہوتا ہے۔بعض دفعہ ہفتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔بعض دفعہ مینوں میں ظاہر ہوتا ہے۔بعض دفعہ سالوں میں ظاہر ہوتا ہے۔بعض دفعہ انجام پر ہی جاکر ظاہر ہوتا ہے۔بلکہ بعض دفعہ مرنے کے وقت جا ظاہر ہوتا ہے۔یہاں اخباروں میں ایک دفعہ ایک واقعہ شائع ہو چکا ہے کہ ایک لڑکی جو جاہل سی تھی اور جس نے صرف چند ایک سیپارے قرآن شریف کے شائد پڑھے ہوئے تھے۔جب فوت ہونے لگی تو اسے وفات کے متعلق بعض عجیب عجیب نظارے نظر آئے جنہیں اس نے جب بیان کیا تو تمام لوگ جو