خطبات محمود (جلد 10) — Page 209
209 ہے وہ بھی حضرت مسیح موعود پر ایمان لانے سے پیدا ہوتا ہے۔لوگ کہتے ہیں احمدیوں کو سیاست سے کیا تعلق۔جو لوگ ریلوے سٹیشن سے دور ایک گاؤں کے رہنے والے ہوں اور سیاسی معاملوں میں اتنا دخل بھی نہ دیتے ہوں۔کسی سیاسی جماعت کے ساتھ تعلق بھی نہ رکھتے ہوں۔بھلا ان کو سیاسی امور کی کیا خبر ہو سکتی ہے۔یہ سچ ہے ہم سیاست سے تعلق نہیں رکھتے اور نہ ہی ہم ایسی کتابیں پڑھتے ہیں جن میں سیاسی امور پر بحث کی گئی ہے۔اور یہ بھی ٹھیک ہے ہم ریل سے پرے بیٹھنے والے لوگ ہیں اور ہمیں جیسا کہ وہ کہتے ہیں۔سیاسی معاملات کی اس قدر خبر نہیں ہو سکتی جتنی کہ ان کو جو ریل کے سر پر بیٹھنے والے ہیں مگر باوجود ان باتوں کے بات وہی صحیح ہوتی ہے جو ہم کہتے ہیں۔خلافت کی تحریک کے دنوں میں جن مطالبات کو میں نے کہا کہ انہیں پیش کیا جائے۔ان کو اس وقت ٹال دیا گیا لیکن بعد میں ترکوں نے وہی مطالبات کئے اور سر مو فرق نہ کیا۔ان کی کمیٹیاں بیٹھیں اور ان کے سیاسی مدبر بڑی سوچ بچار کے بعد آخر انہیں مطالبات کے پیش کرنے پر آئے جن کے پیش کرنے کا ایک عرصہ پہلے میں نے مشورہ دیا تھا۔پھر ہجرت کا واقعہ پیش ہوا۔اس میں بھی میں نے صلاح دی اور اس کے بھی نفع و نقصان سے آگاہ کیا مگر بھی اس وقت توجہ نہ کی گئی اور آخر میرے بتائے ہوئے نقصانات ان کو برداشت کرنے پڑے۔پھر ہندو مسلم اتحاد کا شور پڑا اس میں بھی میں نے جو تجاویز بتائیں اس وقت تو ان پر ہنس دیا گیا لیکن آخر آج یہ لوگ خود ہی چلا اٹھے کہ اگر ہندوؤں وغیرہ سے اتحاد ہو سکتا ہے تو ان شرائط پر اور اس پر ان تجاویز پر۔اور وہ شرائط اور وہ تجاویز کیا تھیں؟ وہی تھیں جو میں نے پہلے ہی بتا دیں۔پھر نان کو اپریشن (Non-co-Opration) کی آواز اٹھی۔میں نے اس کے متعلق بھی کچھ مشورہ دیا مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دوسرے موقعوں کی طرح اس موقعہ پر بھی جو کچھ میں نے کہا وہ انہوں نے نہ مانا اور گو اس کو نہ ماننے کا نتیجہ ان کو تکلیف دہ صورت میں بھگتنا پڑا لیکن آخر کار وہی ہوا جو میں نے پہلے ہی کہا تھا۔اسی طرح تقریبا تمام پیش آمدہ تحریکات اور حالات پر میں نے مشورہ دیا مگر انہوں نے نہ مانا اور گو اس وقت تو نہ مانا مگر جب وقت نکل جاتا رہا پھر اس کو مانا۔اس سے کیا یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ہماری رائے مذہب کی طرح سیاست میں بھی صائب ہوتی ہے۔جب ہم ریل کے سٹیشن سے دور ایک گاؤں میں بیٹھنے والے ہیں۔جب ہم سیاسی مجلسوں سے تعلق رکھنے والے نہیں۔جب ہم ان کتابوں کو نہیں پڑھتے جن میں سیاسی بحث ہوتی ہے۔اور جب ہم سیاسی امور سے اس قدر واقف بھی نہیں جس قدر کہ وہ لوگ خود ہیں۔پھر ہم وقت پر اگر کوئی صلاح دیں اور مشورہ بتائیں اور وہ صلاح اور