خطبات محمود (جلد 10) — Page 208
208 کوئی ہمیں بتائے کبھی مامور کے بغیر دنیا میں کسی نے ترقی کی۔مامور کے بغیر تو ترقی ہوتی ہی نہیں۔ہم پاگل ہی سہی مگر سوچو تو سہی ہمیں کس بات کے لئے پاگل کہا جا رہا ہے۔ہمیں جس بات کے لئے پاگل کہا جا رہا ہے وہ وہی ہے جس کے لئے آنحضرت این اے کو پاگل کہا گیا جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پاگل کہا گیا۔مگر کیا ان دونوں نے لوگوں کے پاگل کہنے پر اس بات کو چھوڑ دیا تھا جس کی بناء پر وہ پاگل کے جاتے تھے اور اس بات پر راضی ہو گئے تھے کہ ہماری قوم بیشک تباہ ہو جائے مگر لوگ ہمیں پاگل نہ کہیں۔ہرگز انہوں نے ایسا نہ کیا۔تو یہ بات ایمان سے ہی حاصل ہوتی ہے اور بغیر کامل ایمان کے دعا بھی نہیں سنی جاتی۔اور کامل ایمان ہو نہیں سکتا جب تک مامور پر ایمان نہ لایا جائے اور اس زمانہ کے مامور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔جب تک ان پر ایمان نہ لایا جائے گا۔نہ یہ بات حاصل ہوگی۔نہ مسلمان ان تکلیفوں اور ذلتوں سے مخلصی پائیں گے۔امید بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے سے ہوگی۔آخر وہاں سے ہی کسی کو امید پیدا ہو سکتی ہے جہاں سے کسی کو کچھ ملتا ہو۔اگر ایک قلعہ بند کا بند پڑا ہو اور وہاں سے کسی کو کچھ ملتا نہ ہو تو کوئی عقلمند وہاں نہیں جائے گا اور نہ ہی اسے یہ امید پیدا ہو گی کہ مجھے وہاں سے کچھ مل سکتا ہے۔اگر ایک کو ایک جگہ سے کچھ مل جائے تو دوسرا بھی امید لے کے وہاں جا بیٹھتا ہے۔جہاں سے کسی کو کچھ ملے وہاں ہی کے متعلق کسی کو امید بھی ہو سکتی ہے۔اور اب جس شخص نے کچھ پایا وہ اس زمانہ کا مامور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہے اور جہاں سے پایا وہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔پس امید بھی تب ہی پیدا ہوگی جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لایا جائے گا۔کیوں؟ اس لئے کہ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی ایک وہ ہستی ہے وہ جنھوں نے خدا پر یقین و ایمان رکھا۔امید رکھی اور دعا کر کے سب کچھ لیا۔اور دنیا کو دکھا دیا کہ قلعہ جسے لوگوں نے بند سمجھا اور بند کر دیا۔وہ بند نہیں تھا کھلا تھا۔چونکہ وہی مامور زمانہ ہیں اور خدا نے اپنی طرف سے ان کو کھڑا کیا ہے اس لئے ان پر ایمان لانے سے ہی فلاح اور کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔رہا بجز و انکسار۔سو عجز و انکسار بھی ایسی ہستیوں کے ہی سامنے پیدا ہوتا ہے جن کی طاقتوں کا اظہار لوگوں پر ہوا ہو۔اور ایسی ہستی بجز خدا تعالیٰ کے کوئی نہیں۔خدا کی طاقتوں کا اظہار تو ہر زمانہ میں ہوتا ہے اور اس زمانہ میں بھی ہو رہا ہے۔مگر جب لوگوں نے اس پر سے ایمان اٹھا لیا اور ہر قسم کا یقین چھوڑ دیا اور ناامید ہو گئے تو حضرت مسیح موعود نے ان سب باتوں پر عمل کر کے بتا دیا کہ جس کو تم چھوڑ رہے ہو وہی تو ہے جس کے ساتھ تم رہو گے تو کامیاب ہو سکو گے۔اسی طرح استقلال