خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 142

142 ہزاروں روپیہ کی ملازمت یا جس کام پر ہو۔اسے قربان کر کے محض قوم کی خاطر تھانیداری منظور کر لے۔تو وہ ضرور دیانت کے ساتھ کام کرے گا۔کیونکہ اس نے اپنے ملک کے فوائد کی خاطر ہزاروں روپیہ پر لات ماری ہو گی۔اس کو نہ تو کوئی روپیہ کا لالچ بد دیانتی کی طرف لے جائے گا۔اور نہ عہدہ میں ترقی کے لئے افسروں کو خوش کرنے کے لئے جھوٹی رپورٹیں پہنچانے اور خوشامد کرنے کی ضرورت ہو گی۔ایسا شخص کبھی بد دیانتی کے قریب تک نہیں جائے گا ہندوستانی اس طریق پر عمل کریں۔پھر دیکھیں کس طرح ہندوستان کی حکومت تھوڑے عرصہ کے اندر ہندوستانیوں کے ہاتھ میں آجاتی ہے۔جب کوئی نیا سلسلہ قائم ہوتا ہے۔اور نئی قوم بنی شروع ہوتی ہے۔تو اس کی ترقی کے لئے تو سینکڑوں سال تک متواتر قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ایسی قوم میں اگر یہ احساس پیدا ہو کہ ہم قوم کے لئے کنگال ہو گئے تو یہ اس کے تنزل کا پہلا قدم ہو گا۔ہم نے تو ابھی کچھ کیا ہی نہیں۔ابھی ہمارے سلسلہ کی عمر ہی کیا ہے۔۳۵ سال تو کل ہمارے سلسلہ کی عمر ہے۔ہم میں سے اگر کوئی یہ خیال کرتا ہے۔کہ ہم نے بہت قربانیاں کرلی ہیں تو وہ نادان ہے اور ترقی کے اصول سے ناواقف۔ایک مورخ لکھتا ہے کوئی قوم دنیا میں تبھی ترقی اور عزت حاصل کر سکتی ہے جب وہ کم از کم دو سو سال تک متواتر قربانیاں کرتی چلی جائے۔اس لحاظ سے تو ابھی ہمیں کم از کم ۱۶۵ سال تک اور متواتر قربانیوں کی ضرورت ہے۔تب جا کر ہم قلیل ترقی کے مستحق ٹھہریں گے۔اور حضرت مسیح موعود تو ۳۰۰ سال کے بعد ہماری ترقی کے لئے فرماتے ہیں۔حضرت مسیح کے ماننے والوں نے بھی تین صدیوں کے بعد ہی ترقی حاصل کی تھی۔پس یہ مت خیال کرو کہ تم اپنے گھروں میں مال جمع کر کے ترقی حاصل کر لو گے۔اور یہ مت خیال کرو کہ تم اپنی جانیں اپنے پاس رکھ کر کامیابی اور عزت کے وارث ہو جاؤ گے۔بلکہ ایک لمبے زمانہ تک متواتر قربانیوں کے بعد عزت اور ترقی حاصل ہو گی۔قرآن کریم جو تمہیں ترقی حاصل کرنے کے گر اور اصول بتانے آیا ہے۔وہ تمہیں عظیم الشان ترقیات اور عزت کے حصول کے لئے یہ گر بتاتا ہے۔کہ جاؤ تم اپنے آپ کو قربان کر دو اور کچی قربانی کے لئے آمادہ ہو جاؤ۔تب تمام دنیا کی گردنیں تمہارے آگے خم ہو جائیں گی۔اگر کہیں کہ اس وقت ہی ہمیں کامل ترقی مل جائے تو اس کے متعلق کہنا پڑے گا کے آمدی و کے پیر شدی کبھی ۳۵ سال میں بھی کوئی قوم بنی ہے۔تاریخ ایسی کوئی نظیر پیش نہیں کرتی کہ کوئی قوم اتنے قلیل عرصہ میں ترقی کے مینار پر پہنچ گئی ہو اور ہماری تو کوئی بنی بنائی قوم ہی نہیں۔ہماری قوم کی بنیاد تو ایک شخص رکھنے والا تھا۔یعنی ہمارے سلسلہ کے بانی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔اور حضرت مسیح