خطبات محمود (جلد 10) — Page 141
141 گاندھی نے بہت شور مچایا۔اور دوسرے لوگوں نے شور مچایا۔لیکن اصل جڑ کو انہوں نے نہ پکڑا۔جب تک اپنے آدمیوں کی اصلاح نہ ہو۔اور وہ قربانی کے لئے تیار نہ ہوں۔تب تک صرف (Non-co-Operation) نان کو اپریشن سے کچھ نہیں ہوتا۔دنیا میں محض شور مچانے سے تو کچھ نہیں بنتا۔ہمیشہ کام کرنے سے کچھ بنا کرتا ہے۔بھلا نان کو اپریشن سے کیا فائدہ ہو سکتا تھا۔جب کہ ہندوستان کی بہت بڑی تباہی کا موجب اپنے ہی آدمیوں کی بد دیانتیاں اور دھوکہ بازیاں ہیں۔عام طور پر دیکھا گیا ہے اور خود ہندوستانی بھی اس کو محسوس کرتے ہیں کہ عام طور پر انگریز بد دیانت نہیں ہوتے خود ہندوستانی ہی ایک دوسرے کا گلا گھونٹ رہے ہوتے ہیں۔بہت سے لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ جب کبھی ہندو مسلمانوں میں فساد ہوتا ہے تو وہ دونوں فریق انگریزوں کے پاس اپنا مقدمہ لے جاتے ہیں اور انگریز مجسٹریٹ سے فیصلہ کرانا چاہتے ہیں جو اس بات کا صاف اقرار ہے کہ ان کے نزدیک انگریز مجسٹریٹ دیانتداری اور انصاف سے کام لیتے ہیں۔لیکن ہندوستانی آپس میں بد دیانتی سے کام لیتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ انگریز مجسٹریٹ کسی مذہبی وجہ سے دیانت دار نہیں ہوتے۔بلکہ وہ حکومت کے لیے تجربہ کی وجہ سے دیانت اور بد دیانتی کے نتائج سے خوب واقف ہیں۔اس لئے دیانتداری سے کام لیتے ہیں۔پھر گورنمنٹ تک رپورٹیں پہنچانے والے کون ہوتے ہیں پولیس میں جھوٹی رپورٹیں بھیجنے والے کون ہوتے ہیں۔کیا وہ ہندوستانی نہیں ہوتے۔جھوٹی رپورٹیں پہنچانے والے ہیں تو ہندوستانی جھوٹی گواہیاں دینے والے ہیں تو ہندوستانی۔قوم میں تفرقہ اور پھوٹ پیدا کرنے والے ہیں تو ہندوستانی۔اور بد دیانت مجسٹریٹ اگر دیکھے جائیں تو ہندوستانی ہی ہوں گے۔وائسرائے اور گورنر کے ہاتھ میں ہوتا کیا ہے۔یہی پولیس کی جھوٹی رپورٹیں ہیں اور پولیس میں ہندوستانی ہی ہوتے ہیں۔پولیس میں کام کرنے والے اپنے انگریز افسروں کو خوش کرنے کے لئے جھوٹی رپورٹیں پہنچاتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کی ترقی اور آزادی صرف تعلیم یافتہ طبقہ کی اصلاح اور تربیت پر موقوف ہے۔اور یہ بہت آسان کام ہے۔یہ نسبت اس کے کہ عوام کو جن کی تعداد کئی کروڑ ہے کوئی بات منوائی اور اس پر عمل کرایا جائے۔اگر تین چار لاکھ تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی قابو کیا جائے اور ان کی کچھ عرصہ تک تربیت کی جائے اور وہ لوگ ملک کے لئے متواتر قربانیاں کریں۔تو ملک آزادی اور ترقی حاصل کر سکتا ہے۔پھر ملک کی اصلاح اور ترقی تعاون سے ہو سکتی ہے۔اور تعاون بھی تب ہو سکتا ہے ب تعلیم اور دیانت ہو اور اس کے ساتھ قربانی کی روح موجود ہو۔مثلاً ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص