خطبات نور — Page 583
583 بڑے اخلاق والا کہتا ہے تو اس کی غیرت دینی پر افسوس۔ایک شخص تمہارے پاس آتا ہے اور تم کو آکر کہتا ہے میاں! تم بڑے اچھے بڑے ایماندار آئے تشریف رکھئے۔باپ تمہارا بڑا ڈوم بھڑوا کنجر بڑا حرامزادہ سور ڈاکو بد معاش تھا۔تم بڑے اچھے آدمی ہو اور ساتھ ساتھ خاطرداری کرتا جائے تو کیا تم اس کے اخلاق کی تعریف کرو گے؟ تمام جہان کے ہادیوں کو جن کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زیادہ بیان کی جاتی ہے اور میرا تو اعتقاد ہے، ان کو کوئی نہیں گن سکتا، بد کار گنگار کہنے والا ایک شخص کی مزورانہ خاطرداری سے خوش اخلاق کہلا سکتا ہے؟ اللہ تعالی کے برگزیدوں کی تو بہتک کرتے ہیں اور تم ان کی نرمی اور خوش اخلاقی کی تعریف کرو حد درجے کی بے غیرتی ہے۔عیسائی خدا کی شریعت کو لعنت کہتے ہیں یہاں تک تو انہوں نے کہہ دیا کہ شریعت کی کتابیں لعنت ہیں، پرانی چادر ہیں۔ان کتابوں کو جو حضرت رب العزت سے خلقت کی ہدایت کے لئے آئیں لعنت کہنا کسی خوش اخلاق کا کام ہو سکتا ہے؟ دیکھو گلتیوں کا خط کہ اس میں شریعت کو لعنت لکھا ہے۔خدا تعالیٰ کے متعلق عقیدہ پھر خدا سے بھی نہیں ملے۔کہتے ہیں اس کا بیٹا ہے تَكَادُ السَّمَوتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُ الْاَرْضُ وَ تَخِرُ الْجِبَالُ هَذَا اَنْ دَعَوْ الِلرَّحْمَنِ وَلَدًا (مريم (۹۲)۔پھر اس بیٹے پر اس غضب کی توجہ کی ہے کہ اپنی دعائیں بھی اسی سے مانگتے ہیں۔بیٹے پر ایمان لانے کے بدوں کسی کو نجات نہیں۔خدا کسی کو علم نہیں بخش سکتا۔یہ تو روح القدس کا کام ہے نہ اللہ تعالیٰ کا۔عیسائی مشنریوں کے بد اخلاق غرض اس درجہ بد اخلاقی سے کام لینے والوں کو خوش خلق کہنا محض اس بنا پر کہ جب کوئی ان کے پاس گیا تو مشنری نے انجیل دے دی ، کسی کو روپیہ دے دیا، کسی کی دعوت کر دی، حد درجے کی بے غیرتی ہے۔ان ظالموں نے ہمارے سب ہادیوں کو برا کہا۔تمام کتب الہیہ کو برا کہا۔جناب الہی کے اسماء وصفات کو برا کہا۔اسے سمیع الدعاء علم دینے والا نہ سمجھا۔پھر اخلاق والے بنے ہیں۔توبہ توبہ۔ان کے کفارہ کا