خطبات نور — Page 582
۔582 سے پیارا مر جائے تو اس ارحم الراحمین کو ظالم کہتے ہیں۔بارش کم ہو تو زمیندار سخت لفظ بک دیتے ہیں اور اگر بارش زیادہ ہو تب بھی خدا تعالیٰ کی کامل حکمتوں کو نہ سمجھتے ہوئے برا بھلا کہتے ہیں۔اس لئے ہر آدمی پر حکم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تنزیہ و تقدیس و تسبیح کرے۔آپ کے کسی اسم پر کوئی حملہ کرے تو اس حملہ کا دفاع کرے۔اب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں کوئی برا کہے یا تمہارے ماں باپ یا بھائی بہن یا محبوب کو سخت سست کہہ دے تو تمہیں بڑا جوش پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہو۔لیکن جس وقت اللہ کے کسی فعل پر کہ وہ بھی اس کے کسی اسم کا نتیجہ ہے کوئی نادان یا شریر اعتراض کرتا اللہ ہے تو تم کہتے ہو۔جانے دو کافر ہے۔بکتا ہے۔اس وقت تمہیں یہ جوش نہیں آتا۔حالانکہ جن کے لئے تم نے اتنا جوش دکھایا، ان میں تو کچھ نہ کچھ نقص یا عیب و قصور ضرور ہو گا۔مگر اللہ تو ہر برائی سے منزہ ہر حمد سے محمود ہے۔ہر وقت تمہاری ربوبیت کرتا ہے۔اب جو اس کے اسماء کے لئے اپنے تئیں سینہ سپر نہیں کرتا وہ نمک حرام ہی ہے اور کیا؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم کوئی پڑھے ہوئے ہیں جو لوگوں سے مباحثے کرتے پھریں۔تعجب کی بات ہے کہ اگر کوئی ان کے ماں باپ یا بھائی بہن کو یا کسی دوست کو یا خود ان کو برا کہہ دے تو وہ ناخواندگی یاد نہیں رہتی اور سنتے ہی آگ ہو جاتے ہیں اور پھر جس طریق سے ممکن ہو اس کا دفاع کرتے ہیں۔مگر جناب الہی سے غافل ہیں۔اسی طرح خدا کے برگزیدوں پر طعن کرنا دراصل خدا تعالیٰ کی برگزیدگی پر طعن رکھنا ہے۔اس کے لئے بھی مومنوں کو غیرت چاہئے۔بعض لوگوں کو میں نے دیکھا ہے شیعہ محلہ میں رہتے ہیں۔ان کے تبرے سنتے سنتے کچھ ایسے بے غیرت ہو جاتے ہیں کہ کہنے لگتے ہیں صحابہ کو برا کہنا معمولی بات ہے۔حالانکہ ان کی برائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ پر حملہ ہے جس نے ان کو تیار کیا۔اسی طرح عیسائی مشنری بڑی بد اخلاق قوم ہے۔عیسائی مشنریوں کے اخلاق! کوئی خلق ان میں ہے ہی نہیں۔ایک شخص نے کہا ان کی تعلیم میں تو اخلاق ہے اور ایک نے کہا ان میں بڑا خلق ہے۔ایسا کہنے والے نادان ہیں۔ان کے ہاں ایک عقیدہ ہے نبی معصوم کا جس کے یہ معنے ہیں کہ ایک ہی شخص دنیا میں ہر عیب سے پاک ہے۔باقی آدم سے لے کر اس وقت تک کے کل انسان گنہگار اور بد کار ہیں۔ان لوگوں نے یہاں تک شوخی سے کام لیا ہے کہ حضرت آدم کے عیوب بیان کئے۔پھر حضرت نوح کے حضرت ابراہیم کے ، حضرت موسیٰ“ کے۔الغرض جس قدر انبیاء اور راستباز پاک انسان گزرے ہیں ان کے ذمہ چند عیوب لگائے ہیں۔پھر ہماری سرکار ہے۔احمد مختار صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تو ان کو خاص نقار ہے اور دھت ہے ان کو گالیاں دینے کی۔باوجود اس گندہ دہنی کے پھر بھی ایسے لوگوں کو کوئی