خطبات نور — Page 518
۲۵ دسمبر ۱۹۱۱ء قبل دو پہر۔قادیان 518 خطبہ نکاح حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ نے مفتی فضل احمد صاحب کا نکاح میاں اللہ دتا ساکن جموں کی دختر نیک اختر سے پڑھا۔اس موقع پر حضور نے جو خطبہ ارشاد فرمایا اس کا خلاصہ ایڈیٹر کے الفاظ میں درج ذیل ہے۔نکاح ایک ایسا معاملہ ہے کہ جس میں انسان کا تعلق ایک اور وجود کے ساتھ ہوتا ہے اور انسان اپنی کم علمی کی وجہ سے نہیں جان سکتا کہ یہ تعلق مفید اور بابرکت ہو گا یا نہیں۔بعض اوقات بڑے بڑے مشکلات پیش آجاتے ہیں یہاں تک کہ انسان کی زندگی تلخ ہو جاتی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا ہی احسان فرمایا ہے کہ ہم کو ایسی راہ بتائی ہے کہ ہم اگر اس پر عمل کریں تو انشاء اللہ نکاح ضرور سکھ کا موجب ہو گا اور جو غرض اور مقصود قرآن مجید میں نکاح سے بتایا گیا ہے کہ وہ تسکین اور مودۃ کا باعث ہو وہ پیدا ہوتی ہے۔سب سے پہلی تدبیر یہ بتائی کہ نکاح کی غرض ذَاتَ الدِّينِ ہو۔حسن و جمال کی فریفتگی یا مال و دولت کا حصول یا محض اعلیٰ حسب و نسب اس کے محرکات نہ ہوں۔پہلے نیت نیک ہو۔پھر اس کے بعد دوسرا