خطبات نور — Page 514
514 معتقد ہیں۔ابراہیم علیہ السلام میں اس قدر خوبیاں اور برکتیں تھیں کہ ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے ابراہیم! اگر تمام آسمان کے ستارے اور زمین کے ذرات گن سکتا ہے تو گن۔اسی قدر تیری اولاد ہو گی۔مکہ معظمہ میں جہاں جہاں حضرت ابراہیم کھڑے ہوئے، جہاں جہاں چلے پھرے اور جہاں جہاں دوڑے ہیں یہ سب حرکات اللہ تعالیٰ نے عبادات میں داخل کر دیں۔اخیر عمر میں ایک شہزادی بھی آپ کے نکاح میں آئی۔ننانوے سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے ایک صالح اور نیک لڑکا عطا فرمایا۔مال مویشی کثرت سے تھے اور بیبیاں اور بچے بھی تھے۔دنیوی دلجمعی کے اسباب بھی سارے مہیا تھے۔جب مهمان آیا تو معأ عجل حَنيذ بھنا ہوا گوشت مہمان کے سامنے لا حاضر کیا۔اگر اسباب مہیانہ ہوتے تو معاً یہ تیاری ناممکن تھی۔وہ گر جس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو یہ دین و دنیا کی برکتیں عطاء کی تھیں وہ کیا تھا؟ جو سارے پیغمبر موسی داؤد عیسی ساروں کو ابرہیم کی ہی برکت سے حصہ ملا تھا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ اور كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ میں بھی ای مماثلت کی دعا سکھلائی ہے۔جڑان برکتوں کی اور گران تمام نعمتوں کا کیا تھا؟ بس یہی ایک گر تھا اِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمُ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِینَ جب کہا اس کو اس کے رب نے کہ تو فرماں بردار ہو جا۔عرض کیا کہ میں فرمانبردار ہو چکا۔تو تو رب العالمین ہے۔تیری فرمانبرداری سے کون اعراض کرے سوائے اس کے جو کہ بے وقوف ہو۔اللہ اللہ ! رب العالمین اور اس کی کچی فرمانبرداری! اس سے بڑھ کر اور کیا چاہئے۔یہ گر دینی و دنیوی برکتوں کا نہ صرف اپنے ہی لئے ابراہیم علیہ السلام نے تجویز کیا بلکہ اپنے بیٹوں کے لئے اور ان بیٹوں نے ابراہیم کے پوتوں کے لئے بھی یہی اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (البقرة:۳۲) سے سبق حاصل کر کے استحضار موت کے وقت و صیتیں کیں۔وَصَّى بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيْهِ وَيَعْقُوبُ يَابَنِيَّ إِنَّ اللهَ اصْطَفى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ - أَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِى قَالُوا نَعْبُدُ الْهَكَ وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَعِيلَ وَ إسْحَقَ الْهَا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ۔میں بھی تم کو تمام خوشحالیوں کا گر بتاتا ہوں کہ تم بھی رب العالمین کے فرمانبردار بن جاؤ۔کسی میں تکبر فرمانبردار بن جانے میں حجاب ہو تا ہے۔کسی میں کسل فرمانبرداری کے لئے حجاب ہوتا ہے۔کسل کو دور کرو اور اتباع نبوی کا التزام رکھو۔اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے۔قُلْ اِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله (ال عمران:۳۲)۔دوسری جگہ فرمایا ہے