خطبات نور — Page 443
سکتی ہیں۔443 غرض پہلا حکم کانوں کے لئے نازل ہوا اور انبیاء بھی اس لا اله الا اللہ کی اشاعت کے لئے آئے اور خدا کی آخری کتاب نے بھی اسی کلمہ کی اشاعت کی اور جس کتاب سے میں نے دینی امور کی طرف خصوصیت سے توجہ کی اس میں بھی اسی پر زیادہ تر بحث ہے۔چونکہ بعض لوگ حکیموں کی بات کو بہت پسند کرتے ہیں اور ان کے کلمہ کا ان کی طبیعت پر خاص اثر ہوتا ہے اس لئے یہاں ایک حکیم کی نصیحت کو بیان کیا ہے۔اور یہ بھی مسلم ہے کہ آدمی اپنی اولاد کو وہی بات بتاتا ہے جو بہت مفید ہو اور مضر نہ ہو۔شرک عربی زبان میں کہتے ہیں سانجھ کرنے کو کسی کو کسی کے ساتھ ملانے کو۔تو مطلب یہ ہوا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو جوڑی نہ بناؤ۔ایک مقام پر فرمایا ہے ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ (الانعام:) کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے برابر اس کی ذات میں کسی دوسرے کو بھی مانتا ہو، یہ شرک میں نے کسی سے نہیں سنا۔ثنوی ایک فرقہ ہے جو کہتے ہیں کہ دنیا کے دو خالق ہیں۔ایک ظلمت کا ایک نور کا۔مگر برابر وہ بھی نہیں کہتے۔خدا نے فرمایا کہ مَنْ خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ (لقمان (٣٩) تو کفار مکہ جو بڑے مشرک تھے انہوں نے بھی کہا۔اللہ۔اسی طرح ان کے جاہلیت کے شعروں میں اللہ کالفظ کسی اور پر نہیں بولا گیا۔پھر شرک کیا ہے جس کے واسطے قرآن شریف نازل ہوا ؟ سنو! دوسرا مرتبہ صفات کا ہے۔اللہ تعالیٰ ازلی ابدی ہے۔سب چیزوں کا خالق ہے۔وہ غیر مخلوق ہے۔پس یہ صفات کسی غیر کے لئے بنانا شرک ہے۔آریہ قوم نے پانچ ازلی مانے ہیں۔(۱) اللہ قدیم ازلی ہے۔(۲) روح ازلی ہے۔(۳) مادہ ازلی ہے۔(۴) زمانہ ازلی ہے۔(۵) فضا ازلی ہے جس میں یہ سب چیزیں رکھی ہیں۔اس واسطے یہ قوم مشرک ہے۔عیسائی قوم نے کہا ہے کہ بیٹا ازلی ہے۔باپ ازلی ہے۔روح القدس ازلی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ (المائدة: ۷۳) ایک قوم ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم میں اور تصرف میں کسی مخلوق کو بھی شریک بناتی ہے۔بد بختی سے مسلمانوں میں بھی ایسا فرقہ ہے جو کہ پیر پرست ہے۔حالانکہ رسول کریم" سے بڑھ کر کوئی نہیں اور وہ فرماتا ہے۔لَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ (الانعام ) اور لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَ مَا مَسَّنِيَ السُّوءُ (الاعراف: ۱۸۹)۔پس کسی اور ولی کو کبھی یہ قدرت حاصل ہو سکتی ہے کہ اسے جانی جان کہا