خطبات نور — Page 36
36 بجبر و اکراہ لیتے ہیں اور بعض اللی کاموں کی بجا آوری میں نفس ان کا بخوشی خاطر تابع ہو جاتا ہے اور ذوق اور شوق اور محبت اور ارادت سے ان کاموں کو بجالاتا ہے۔غرض یہ لوگ کچھ تو تکلیف اور مجاہدہ سے خدا تعالیٰ کی راہ پر چلتے ہیں اور کچھ طبعی جوش اور دلی شوق سے بغیر کسی تکلف کے اپنے رب جلیل کی فرماں برداری ان سے صادر ہوتی ہے۔تیسرے سابق بالخیرات اور اعلی درجہ کے آدمیوں کا گروہ ہے جو نفس امارہ پر بکلی فتحیاب ہو کر نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں۔غرض سلوک کی راہ میں مومن کو تین درجے طے کرنے پڑتے ہیں۔پہلے درجہ میں جب بدی کی عادت ہو تو اس کے چھوڑنے میں جان پر ظلم کرے اور اس قوت کو دبادے۔شراب کا عادی اگر شراب کو چھوڑے گا تو ابتدا میں اس کو بہت تکلیف محسوس ہو گی۔شہوت کے وقت عفت سے کام لے اور قوائے شہوانیہ کو دبادے۔اسی طرح جھوٹ بولنے والا سست منافق، راستبازوں کے دشمنوں کو بدیاں چھوڑنے کے لئے جان پر ظلم کرنا پڑے گا تا کہ یہ اس طاقت پر فاتح ہو جائیں۔بعد اس کے میانہ روی کی حالت آوے گی۔کبھی کبھی بدی کے چھوڑنے میں گو کسی وقت کچھ خواہش بد پیدا بھی ہو جاوے ایک لذت اور سرور بھی حاصل ہو جایا کرے گا مگر تیسرے درجہ میں پہنچ کر سابق بالخیرات ہونے کی طاقت آجاوے گی اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کی بارش ہونے لگے گی اور مکالمہ الہی کا شرف عطا ہو گا۔تو سب سے پہلے ابرار کو کافوری شربت دیا جاوے گا تاکہ بدیوں اور رذائل کی قوتوں پر فتح مند ہو جاویں اور اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ بدیوں کو دباتے دباتے نیکیوں میں ترقی کرتا ہے اور پھر وہ ایک خاص چشمہ پر پہنچ جاتا ہے۔عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللَّهِ يُفَخِرُوْنَهَا تَفْجِيْرًا- (الدهر) وہ ایک چشمہ ہے کہ اللہ کے بندے اس سے پیتے ہیں۔صرف خود ہی فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ دوسروں کو بھی مستفید کرتے ہیں اور ان چشموں کو چلا کر دکھاتے ہیں۔فطرت انسانی پر غور کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ تمام قومی پہلے کمزوری سے کام کرتے ہیں۔چلنے میں، بولنے میں پکڑنے میں، غرض ہر بات میں ابتداء لڑکپن میں کمزوری ہوتی ہے۔لیکن جس قدر ان قوی سے کام لیتا ہے اسی قدر طاقت آجاتی ہے۔پہلے دوسرے کے سہارے سے چلتا ہے پھر خود اپنے سارے چلتا ہے۔اسی طرح پہلے تلا کر بولتا پھر نہایت صفائی اور عمدگی سے بولتا ہے، پکڑتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔گویا بتدریج نشو و نما پاتا ہے۔اگر چند طاقتوں سے کام لینے کو چھوڑ دے تو وہ طاقتیں مردہ یا پژمردہ ضرور ہو جاتی ہیں۔یہی معنی ہیں جب انسان بدی کی طرف قدم اٹھاتا ہے تو طاقت کمزور ہو جاتی ہے اور نیکی کے