خطبات نور — Page 422
422 دیکھتا ہوں۔میں تمہارے ابتلاء سے بہت ڈرتا ہوں۔اس لئے مجھے کمانے کا زیادہ فکر ہوتا ہے۔بمب کے گولے اور زلزلے سے بھی زیادہ خوفناک یہ بات ہے کہ تم میں وحدت نہ ہو۔جلد بازی سے کوئی فقرہ منہ سے نکالنا بہت آسان ہے مگر اس کا نگلنا بہت مشکل ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں ہم تمہاری نسبت نہیں بلکہ اگلے خلیفے کے اختیارات کی نسبت بحث کرتے ہیں۔مگر تمہیں کیا معلوم کہ وہ ابو بکر اور مرزا صاحب سے بھی بڑھ کر آئے۔میں تم پر بڑا حسن ظن رکھتا ہوں۔میں نے لا الهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِہ کبھی تمہارے محرروں سے بھی دریافت نہیں کیا کہ تم لوگ کس طرح کام کرتے ہو۔مجھے یقین ہے کہ تم تقویٰ سے کام کرتے ہو۔باقی رہا میں سو میری نسبت تحقیق کر لو۔جس طرح چاہو نگرانی کر لو۔مخفی در مخفی راہوں سے کر لو۔مجھے ایک دفعہ شیخ صاحب نے کہا تھا کہ اب میں نے یہاں سکونت اختیار کرلی ہے۔میں تمہاری نگرانی کروں گا۔تو میں نے کہا تھا بسم اللہ۔دو فرشتے میرے نگہبان پہلے ہی سے مقرر ہیں۔ایک تم آگئے۔میں آج کے دن ایک اور کام کرنے والا تھا مگر خدا تعالیٰ نے مجھے روک دیا ہے اور میں اس کی مصلحتوں پر قربان ہوں۔تم میں جو نقص ہیں ان کی اصلاح کرو۔عورتوں سے جن کا سلوک اچھا نہیں، قرآن کے خلاف ہے، وہ خصوصیت سے توجہ کریں۔میں ایسے لوگوں کو اپنی جماعت سے الگ نہیں کرتا کہ شاید وہ سمجھیں ، پھر سمجھ جائیں، پھر سمجھ جائیں۔ایسا نہ ہو کہ میں ان کی ٹھوکر کا باعث بنوں۔میں اخیر میں پھر کہتا ہوں کہ آپس میں تباغض و تحاسد کا رنگ چھوڑ دو۔کوئی امرا من یا خوف کا پیش آجاوے عوام کو نہ سناؤ۔ہاں جب کوئی امرطے ہو جائے تو پھر بیشک اشاعت کرو۔اب میں تمہیں کہتا ہوں کہ یہ باتیں تمہیں ماننی پڑیں گی، طوعاً و کرہا اور آخر کہنا پڑے گا آتَيْنَا طَائِعِينَ (لحم السجدة:1)۔جو کچھ میں کہتا ہوں تمہارے بھلے کی کہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ مجھے اور تمہیں راہ ہدایت پر قائم رکھے اور خاتمہ بالخیر کرے۔آمین۔( بدر جلد ۸ نمبر ۵۲-۰-۲۱ اکتوبر ۱۹۰۹ء صفحه ۹ تا ۱۲) ⭑-⭑-⭑-⭑