خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 34 of 703

خطبات نور — Page 34

34 اور ہلاک ہوا۔پھر انسان اور سمجھدار انسان کب اعتقاد صحیحہ رکھتا ہوا اعمال بد کی طرف قدم اٹھا سکتا ہے۔اس لئے ابرار کے لئے پہلے ضروری چیز یہی ہے کہ اعتقاد صحیحہ ہوں اور وہ پکی طرح پر اس کے دل میں جاگزیں ہوں۔اگر منافقانہ طور پر مانتا ہے تو کاہل ہو گا حالانکہ مومن ہوشیار اور چالاک ہوتا ہے۔ان اعتقادات صحیحہ میں سے پہلا اور ضروری عقیدہ خدا تعالیٰ کا ماننا ہے جو تمام نیکیوں کی جڑ اور تمام خوبیوں کا چشمہ ہے۔دنیا میں ایک بچہ بھی جانتا ہے کہ جب تک دوسرے سے مناسبت پیدا نہ ہو اس کی طاقتوں اور فضلوں سے برخوردار نہیں ہو سکتا۔جب انسان قرب الہی چاہتا ہے اور اس کی دلی تمنا ہوتی ہے کہ اس کے خاص فضل اور رحمتوں سے بہرہ ور اور برخوردار ہو جائے تو اسے ضروری ہے کہ ان باتوں کو چھوڑ دے جو خدا تعالیٰ میں نہیں یا جو اس کی پسندیدہ نہیں ہیں۔جس قدر عظمت الہی دل میں ہو گی اسی قدر فرمان برداری کے خیالات پیدا ہوں گے اور رذائل کو چھوڑ کر فضائل کی طرف دوڑے گا۔کیا ایک اعلی علوم کا ماہر جاہل سے تعلق رکھ سکتا ہے یا ایک ظالم طبع انسان کے ساتھ ایک عادل مل کر رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔پس خدا تعالیٰ کی برکتوں سے برخوردار ہونے کے لئے سب سے ضروری بات صفات الہی کا علم حاصل کرنا اور ان کے موافق اپنا عمل درآمد کرتا ہے۔اگر یہ اعتقاد بھی کمزور ہو تو ایک اور دوسرا مسئلہ ہے جس پر اعتقاد کرنے سے انسان خدا تعالیٰ کی فرماں برداری میں ترقی کر سکتا ہے وہ جزا و سزا کا اعتقاد ہے۔یعنی افعال اور ان کے نتائج کا علم مثلاً یہ کام کروں گا تو نتیجہ یہ ہو گا۔برے نتائج پر غور کر کے انسان ہاں سعید الفطرت انسان برے کاموں سے جو ان نتائج بد کا موجب ہیں پر ہیز کرے گا اور اعمال صالحہ بجا لانے کی کوشش۔یہ دونو اعتقاد نیکیوں کا اصل الاصول اور جڑیں ہیں یعنی اول خدا تعالیٰ کی صفات اور محامد کا اعتقاد اور علم تاکہ قرب الہی سے فائدہ اٹھاوے اور رذائل کو چھوڑ کر فضائل حاصل کرے۔دوسرا یہ کہ ہر فعل ایک نتیجہ کا موجب ہوتا ہے۔اگر بد افعال کا مرتکب ہو گا تو نتیجہ بد ہو گا۔ہرانسان فطر تا سکھ چاہتا ہے اور سکھ کے وسائل اور اسباب سے بے خبری کی وجہ سے افعال بد کے ارتکاب میں سکھ تلاش کرتا ہے مگر وہاں سکھ کہاں؟ اس لئے ضروری ہے کہ افعال اور ان کے نتائج کا علم پیدا کرے اور یہی وہ اصل ہے جس کو اسلام نے جزا و سزا کے لفظوں سے تعبیر کیا ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان تجربہ کار اور واقف کار لوگوں کے بتلائے ہوئے مجرب نسخے آرام و صحت کے لئے چاہتا ہے۔اگر کوئی ناواقف اور نا تجربہ کار بتلائے تو تامل کرتا ہے۔پس نبوت حقہ نے جو راہ دکھلائی ہے وہ تیرہ سو برس سے تجربہ میں آچکی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے راحت کے جو