خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 412 of 703

خطبات نور — Page 412

وعظ کی دقتیں 412 دوسری بات جس کے لئے کئی وقت میں گھبراتا رہا ہوں یہ ہے کہ مجھے دن میں پانچ وقت وعظ کرنا پڑتا ہے۔وعظ کے متعلق بڑی دقتیں ہوتی ہیں۔ایک واعظ کو ایک اسے جسے وعظ کیا جائے۔واعظ کی دقتیں سات قسم کی ہیں۔(۱)۔حدیث میں آیا ہے قیامت کے دن بعض آدمیوں کو دوزخ میں لے جائیں گے اور انہیں کے سامنے بعض کو بہشت میں۔بہشت میں جانے والے تعجب کریں گے اور کہیں گے کہ ہم تو انہی دوزخ میں جانے والوں کے وعظ سننے کے سبب اور اس پر عمل کرنے کے ذریعہ سے بہشت میں جاتے ہیں، پھر یہ کیا معاملہ ہے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم عمل نہیں کرتے تھے۔دیکھو واعظ کے لئے کس قدر اشکال ہیں۔(۲) - پھر واعظ کے لئے یہ وقت ہے کہ بعض واعظ پہلے بڑی بڑی مشاقی کرتے ہیں۔عجیب عجیب لفظ سوچے جاتے ہیں۔بعض کو داد کے لئے مقرر کرتے ہیں۔گویا یہ وعظ ریاء کے لئے ہوتا ہے۔اس کی نسبت آتا ہے۔يُرَاءُونَ النَّاسَ (النساء:۱۴۳)- (۳)۔پھر وعظ سمعہ کے لئے بھی کیا جاتا ہے۔یعنی وعظ محض اس ارادے سے کیا جاوے کہ لوگ سنیں اور کہا جائے کہ فلاں بڑا مقرر ہے۔بڑا بولنے والا ہے۔(۴)۔واعظ کے لئے وہی مشکل ہے جو شاعر کے لئے بھی ہے۔اگر اور کوئی شعر پچھلا سنا دیا تو یہ کہا جاتا ہے یہ تو پہلے بھی سنا چکے ہو۔(ب) مضمون کسی سے مل جائے تو پھر کہا جاتا ہے فلاں کا چرایا ہوا ہے۔(ج) مذاق کے مطابق نہ ہو تو کہہ دیا پھیکا ہے۔(د) اور اگر پسند بھی آگیا تو سوائے اس کے کہ معمولی ہا ہا ہو گئی نتیجہ کچھ بھی نہیں۔اول تو جدت کا آنا ہی مشکل ہے کیونکہ جس واعظ کو ہر روز ایک تنگ دائرے میں کھڑے ہو کر وعظ کرنا پڑے اس میں جدت کہاں سے آئے۔(۵)۔پانچواں اشکال سنت کی اتباع کے متعلق ہے کہ صحابہ کرام فرماتے تھے روز وعظ نہیں کرنا چاہئے تا بات معمولی نہ سمجھی جاوے۔(۶)۔اس سے بڑھ کر ایک اور بات ہے۔کل ہی ایک سجادہ نشین نے مجھے خط لکھا ہے کہ مرزا صاحب کی طرف بلانے کا تو ہی واسطہ تھا۔اب ان سے گمراہ کرنے والا بھی تو ہی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگوں کو کان رس ہوتا ہے ، بعضوں کو آنکھ رس۔وہ واعظ کے وعظ اپنے خیالات پر کستے رہتے ہیں۔اگر ذرا بھی اپنے ذوق کے خلاف پائیں تو بگڑ بیٹھتے ہیں۔میں نے اسے لکھا کہ تمہارا خط میری انتہائی راحت کا