خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 402 of 703

خطبات نور — Page 402

4۔02 کرتے ہیں اس کی کتاب بنائی جاوے تو قرآن سے دس گنا حجم میں ضخیم ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ غفور رحیم ہے۔اس کو ہماری عبادت کی ضرورت کیا ہے؟ حالانکہ وہ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں بھی بد پر ہیزیوں سے اور حکام کی خلاف ورزی سے دکھ ضرور پہنچتا ہے۔پس گناہ سے اور احکم الحاکمین کی خلاف ورزی سے کیوں سزا نہ ملے گی۔ان تمام اقسام کے وسوسوں اور غلط فہمیوں سے جو اضلال کا موجب ہیں بچنے کے لئے یہ سورۃ سکھائی گئی ہے۔عوذ ان چھوٹے پودوں کو کہتے ہیں جو بڑے درختوں کی جڑ کے قریب پیدا ہوتے ہیں۔ہر آدمی کو ایک رب کی ضرورت ہے۔دیکھو انسان غذا کو گڑ بڑ کر کے پیٹ میں پہنچا لیتا ہے۔اب اسے دماغ میں ، دل میں ، اعضاء رئیسہ میں بحصہ رسدی پہنچانا یہ رب کا کام ہے۔اسی طرح بادشاہ کی ضرورت ہے۔گاؤں میں نمبردار نہ ہو تو اس گاؤں کا انتظام ٹھیک نہیں۔اسی طرح تھانیدار، تحصیلدار نہ ہو تو اس تحصیل کا ڈپٹی کمشنر نہ ہو تو ضلع کا کمشنر نہ ہو تو کمشنری کا اسی طرح بادشاہ نہ ہو تو اس ملک کا انتظام درست نہیں رہ سکتا۔پس انسان کہ عالم صغیر ہے اس کی مملکت کے انتظام کے لئے بھی ایک ملک کی حاجت ہے۔پھر انسان اپنی حاجتوں کے لئے کسی حاجت روا کا محتاج ہے۔ان تینوں صفتوں کا حقیقی مستحق اللہ ہے۔اس کی پناہ میں مومن کو آنا چاہئے تا چھپے چھپے ، پیچھے لے جانے والے، مانع ترقی وسوسوں سے امن میں رہے۔اسلام کی حالت اس وقت بہت ردی ہے۔ہر مسلمان میں ایک قسم کی خود پسندی اور خود رائی ہے۔وہ اپنے اوقات کو اپنے مال کو خدا کی ہدایت کے مطابق خرچ نہیں کرتا۔اللہ نے انسان کو آزاد بنایا پر کچھ پابندیاں بھی فرمائیں بالخصوص مال کے معاملہ میں۔پس مالوں کے خرچ میں بہت احتیاط کرو۔اس زمانہ میں بعض لوگ سود لینا دینا جائز سمجھتے ہیں۔یہ بالکل غلط ہے۔حدیث میں آیا ہے۔سود کا لینے والا دینے والا بلکہ لکھنے والا اور گواہ سب خدا کی لعنت کے نیچے ہیں۔میں اپنی طرف سے حق تبلیغ ادا کر کے تم سے سبکدوش ہوتا ہوں۔میں تمہاری ایک ذرہ بھی پروا نہیں رکھتا۔میں تو چاہتا ہوں کہ تم خدا کے ہو جاؤ۔تم اپنی حالتوں کو سنوارو۔خدا تمہیں عمل کی توفیق دے۔آمین۔بد ر جلد ۸ نمبر ۳۹ -- ۲۲ جولائی ۱۹۰۹ء صفحه ۲) ⭑-⭑-⭑-⭑