خطبات نور — Page 294
294 چھوڑ کر اللہ کی طرف آجاؤ۔اور چونکہ وہ سب سے ہر رنگ میں بڑا ہے اب اس کا حکم آنے پر دوسروں کے احکام کی پرواہ مت کرو۔ایک طرف خدا کا بلاوا آجاوے، دوسری طرف کوئی یار دوست آشنا بلاویں یا کوئی دنیا کا کام بلاوے تو اللہ کے مقابلہ میں ان کو ترک کر دو۔کیونکہ اللہ اکبر اللہ سب سے بڑا ہے اور سب سے بڑے کی بات کو مان لینا تمہاری فطرت میں رکھا گیا۔حتی کہ ماں باپ جن کی اطاعت اور فرمانبرداری کی خدا نے سخت تاکید فرمائی ہے خدا کے مقابلہ میں اگر وہ کچھ کہیں تو ہر گز نہ مانو۔فرمانبرداری کا پتہ مقابلے کے وقت لگتا ہے کہ آیا فرمانبردار اللہ کا ہے یا کہ مخلوق کا۔ماں باپ کی فرمانبرداری کا خدا نے اعلیٰ مقام رکھا ہے اور بڑے بڑے تاکیدی الفاظ میں یہ حکم دیا ہے۔ان کے کفر و اسلام اور فسق و فجور یا دشمن اسلام وغیرہ ہونے کی کوئی قید نہیں لگائی اور ہر حالت میں ان کی فرماں برداری کا تاکیدی حکم دیا ہے مگر ہر مقابلہ کے وقت ان کے متعلق یہی فرما دیا کہ ان جَاهَدُكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا (العنکبوت) اگر خدا کے مقابلہ میں آجاویں تو خدا کو مقدم کرو ان کی ہر گز نہ مانو۔اولى الأمر حاکم وقت کی فرماں برداری کا بھی بہت تاکیدی حکم ہے۔فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ (النساء:۲) کہہ کر بتا دیا کہ اللہ اور اس کے رسول کے پیش کرو۔پھر جیسا کہ حکم ہو کرو۔غرض نفس ہو یا دوست ہوں ، رسم ہو یا رواج ہو ، قوم ہو یا ملک ہو ماں باپ ہوں یا حاکم ہوں جب وہ خدا کے مقابلہ میں آجاویں یعنی خدا ایک طرف بلاتا ہے اور یہ سب ایک طرف تو خدا کو مقدم رکھو۔یہاں اس وقت ہمیں ایک اعتراض یاد آیا ہے۔ایک ہمارے دوست نے ہم سے یہ اعتراض بیان کیا کہ چار شہادتوں کا مہیا ہو نا صرف زنا کے بارہ میں ہی آیا ہے ورنہ اور کسی امر میں چار گواہیاں نہیں۔اس وقت اذان کے الفاظ سے ہی یہ بھی حل ہوا ہے کہ اذان میں بھی اللہ اکبر کے بعد کلمات شہادت کے متعلق بھی چار بار بیان کرنے کی روایات ہیں جس کا نام اذان ترجیع رکھا ہے۔غرض موذن بھی ہمیشہ چار ہی شہادت دیتا ہے۔اور یہ حد کمال شہادت ہے۔الله اکبر کی شہادت اپنی کامل حد تک ادا کر چکنے کے بعد موذن لا اله الا اللہ کی شہادت دیتا ہے یعنی کوئی بھی بجز اللہ تعالی قابل عبادت اور واجب الاطاعت وجود نہیں ہے۔پس خدا کے مقابلہ میں کسی دوسرے کی فرمانبرداری کرنا سجدہ کرنا، رکوع کرنا، دعا کرنا کسی پر بھروسہ رکھنا اللہ کے سوا بالکل جائز نہیں ہے۔