خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 287 of 703

خطبات نور — Page 287

287 رنگ میں اور میرے جیسے انسان کو اپنے رنگ میں۔غرض عجیب عجیب امتحان ہوتے ہیں۔تعوذ ایسا ضروری ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید کو تعوذ پر ختم فرمایا ہے۔اس لئے کبھی اس سے غافل نہیں رہتا چاہئے۔نفس کا شر اور اعمال کا شر اس کے بد نتائج ہوتے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ کی پناہ میں انسان نہ آ جاوے تو وہ ہلاک ہو جاتا ہے اور پھر کوئی اسے بامراد نہیں کر سکتا اور نہ بچا سکتا ہے۔اسی طرح اخلاص اور نیکی کے ثمرات نیک ہوتے ہیں۔ایسے شخص کو جب وہ اللہ تعالی کی پناہ میں آجاتا ہے کوئی ہلاک نہیں کر سکتا۔اس لئے فرمایا مَنْ يَّهْدِهِ اللهُ فَلا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ - ان سب باتوں کا خلاصہ یہ ہے۔وَ نَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَنَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ - یہ خلاصہ اور اصل عظیم الشان اصل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اپنا معبود، محبوب اور مطاع نہ بناؤ۔اور زبان، آنکھ، کان، ہاتھ ، پاؤں غرض کل جوارح اور اعضاء اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں لگے ہوئے ہوں۔کوئی خوف اور امید مخلوق سے نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بنیں اور اس کے حکم کے مقابل کسی اور حکم کی پروا نہ کریں۔فرمانبرداری کا اثر اور امتحان مقابلہ کے وقت ہوتا ہے۔ایک طرف قوم اور رسم و رواج بلاتا ہے، دوسری طرف خدا تعالی کا حکم ہے۔اگر قوم اور رسم و رواج کی پروا کرتا ہے تو پھر اس کا بندہ ہے۔اور اگر خدا تعالی کی فرمانبرداری کرتا ہے اور کسی بات کی پروا نہیں کرتا تو پھر خدا تعالیٰ پر سچا ایمان رکھتا ہے اور اس کا فرمانبردار ہے اور یہی عبودیت ہے۔قرآن مجید نے اسلام کی یہی تعریف کی ہے مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَ هُوَ محسن (البقره: ۱۳) کچی فرمانبرداری یہی ہے کہ انسان کا اپنا کچھ نہ رہے۔اس کی آرزوئیں اور امیدیں، اس کے خیالات اور افعال سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کی رضا اور فرمانبرداری کے نیچے ہوں۔میرا اپنا تو یہ ایمان ہے کہ اس کا کھانا پینا، چلنا پھرنا سب کچھ اللہ ہی کے لئے ہو تو مسلمان اور بندہ بنتا ہے۔خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری اور رضامندی کی راہوں کو بتانے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔چونکہ ہر شخص کو مکالمہ الہیہ کے ذریعہ الہی رضا مندیوں کی خبر نہیں ہوتی ، اگر کسی کو ہو بھی تو اس کی وہ حفاظت اور شان نہیں ہوتی جو خدا تعالیٰ کے ماموروں اور مرسلوں کی وحی کی ہوتی ہے اور خصوصاً سرور انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی کہ جس کے دائیں بائیں آگے پیچھے ہزاروں ہزار ملائکہ حفاظت کے لئے ہوتے ہیں۔اس لئے کامل نمونہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں اور وہی مقتدا اور مطاع ہیں۔پس