خطبات نور — Page 270
270 کرنے سے اللہ تعالیٰ کو اپنی دینداری جتلانی چاہتے ہو؟ اللہ کے نزدیک تو تب ہی صادق ٹھہر سکو گے بڑب عملی طور پر دکھوں، دردوں اور مصیبتوں میں ثابت قدم رہو گے اور اپنے مالوں اور جانوں سے دوسروں کی غمخواری کرو گے اور محتاجوں اور غریبوں کی امداد کرو گے۔یاد رکھو دوسروں کی غمخواری بہت ضروری ہے لیکن یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کی ہی توفیق سے ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔آمین۔ایک اور ضروری بات جو اس زمانہ کے لئے نہایت ضروری ہے میں بیان کرنی چاہتا ہوں کہ حضرت صاحب نے ایک دفعہ بہت سے زمینداروں کو اکٹھا کر کے بتایا تھا کہ میں نے دیکھا ہے کہ اس ملک پنجاب میں سیاہ رنگ کے پودے لگائے گئے اور پودے لگانے والوں نے مجھے بتایا ہے کہ یہ طاعون کے پودے ہیں۔آخر وہ پودے لگے اور لوگوں نے اس کے پھل بھی کھائے۔اب حضرت صاحب نے پھر فرمایا ہے اور پے در پے الہامات ہوئے ہیں کہ عنقریب طرح طرح کی نئی نئی بلائیں وبائیں اور بیماریاں پھیل جائیں گی اور عالمگیر قحطوں اور زلزلوں سے دنیا پر سخت درجہ کی تباہی آئے گی اور شدت سے طاعون اور دوسری آفات دنیا کو گھیر لیں گی اور وہ وقت نہایت ہی قریب ہے جبکہ اس قسم کے خطرناک مصائب دنیا کو بدحواس اور دیوانہ سا بنا دیں گے۔اب دیکھو چار بلاؤں کا مقابلہ دنیا کو کرنا پڑے گا۔ایک تو خاص دبائیں۔دوسرے شدت سے ایک نئی قسم کی طاعون۔تیسرے سخت زلزلے۔چوتھے قحط شدید۔اوروں کو جانے دو ان میں سے ایک قحط کو ہی لو۔گو بچے تو اس بات کو نہیں سمجھ سکتے مگروہ لوگ جن کے کنبے ہیں خوب سمجھتے ہیں کہ کن کن تکلیفات کا سامنا ہو رہا ہے۔آگے ربیع کا موسم آیا ہے اس میں اور بھی مشکلات نظر آتے ہیں۔اور پھر اس کے ساتھ ہی دبائیں ہیں طاعون ہے زلزلے ہیں۔اس لئے چاہیے کہ استغفار اور لاحول اور احمد اور درود شریف بہت پڑھو اور صدقہ اور خیرات بہت دو اور دعاؤں میں کثرت سے لگے رہو۔مگر افسوس کہ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ”او! کیا ہے۔مرنا تو ہے۔کیا تم نے نہیں مرنا؟ آخر سب نے ہی مرجانا ہے۔بات ہی کیا ہے۔مگر خوب یاد رکھو کہ جس کے گھر پر مصیبت آتی ہے وہی جانتا ہے کہ اس قسم کی باتیں کس موقع پر انسان منہ سے نکالا کرتا ہے۔افسوس کہ اکثر لوگوں میں بدظنی کا مادہ بہت بڑھ گیا ہے۔مگر وہ یاد رکھیں کہ ان کی بد ظنیوں سے کسی کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا مگر ان کو نقصان پہنچ گیا۔میرا کام کہنا ہے سو وہ تو میں کسی نہ کسی صورت میں کہہ ہی دوں گا۔اکثر آدمی کہہ دیتے ہیں کہ ”میاں! یہ سب باتیں کہنے کی ہوا کرتی ہیں۔ان کو دیکھا ہوا ہے۔ہمیشہ ایسی ہی باتیں کیا کرتے ہیں۔کیا انہوں نے مرکر دیکھا ہوا ہے۔اس قسم کے وعظ کرنے کی تو ان کی