خطبات نور — Page 200
200 رسوائی کا کر دیوے۔چنانچہ جن صحابہ کرام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پورا اتباع کیا ان کے مخالفین ذلیل و رسوا ہو کر ہلاک اور تباہ ہو گئے اور متبعین کاملین حسب الحکم آیت مذکورہ دین اور دنیا کے مالک کہلائے گئے۔چونکہ آیت ہذا میں جو پیشین گوئی مندرج ہے وہ پورے طور پر واقع ہوئی لہذا یہ آیت ایک نشان نبوت کا ہو گئی۔اور یہی آیت حضرت مسیح موعود کو الہام ہوئی تھی جس کو مدت تخمینا چوبیں سال کی ہو گئی ہے۔دیکھو اس وقت کو اور اس وقت کو کیسی کیسی نفرتیں اس کے شامل حال ہوئی ہیں اور ہوتی ہیں اور مخالف اس کے کیسے کیسے ذلیل وخوار ہوتے جاتے ہیں۔ایک طرف تو نظارہ يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران :۳۲) کا نظر آ رہا ہے اور دوسری طرف فَإِنَّ اللهَ لا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ (ال عمران:۳۳) کا نظارہ موجود ہے۔رحمت الله این عمل عمل را در وفا لعنت الله آن عمل را قفا در بعض منافقین نے اس حکم تاکیدی اتباع پر یہ شبہ پیدا کیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت قرار دیتے ہیں اور اپنی محبت کو اللہ تعالیٰ کی محبت کہتے ہیں۔اس سے تو لازم آتا ہے کہ جس طرح نصاری نے حضرت عیسی کو خدا قرار دے رکھا ہے یہ بھی اپنے تئیں اللہ قرار دینا چاہتے ہیں۔جواب یہ دیا گیا کہ اطاعت تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔مگر اس کی اطاعت کیونکر ہو سکتی ہے؟ اس کا طریق یہ ہے کہ کوئی ایسا واسطہ موجود ہو کہ ایک لحاظ سے ہم جیسا بشر ہو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کو ایسا قرب حاصل ہو کہ رسالت اس کے احکام کی کر سکے جس کو دوسرے لفظوں میں رسول کہتے ہیں۔تو اس لئے ارشاد ہوتا ہے کہ ان سے کہہ دو کہ میری متابعت بحیثیت رسول ہونے کے ں ہونے کے تم پر واجب ہے نہ اس حیثیت سے جس طرح نصاریٰ حضرت عیسی کی نسبت کہتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میں رسول ہوں۔اس لئے واسطے اطاعت اللہ تعالیٰ کے میرا اتباع تم پر لازم ہے۔اگر اس فہمائش اور ہدایت کو بھی نہ مانیں اور روگردانی کریں جو موجب کفر ہے تو بے شک اللہ تعالیٰ ایسے کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔چنانچہ اس عدم محبت کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام مکذبین اور کافرین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ہی یا تو تباہ اور ہلاک ہو گئے یا جن کی قسمت میں تھا اسلام میں داخل ہو گئے۔علیٰ ہذا القیاس هَلُمَّ جَرا- مسیح موعود کے زمانہ تک کہ بحکم حدیث صحیح مسلم لَا يَحِلُّ لِكَافِرٍ أَنْ تَجِدَ رِيحَ نَفْسِهِ إِلَّا مات کے اس کے مکذبین اور کمفرین بھی رسوا اور تباہ ہو گئے اور ہو رہے ہیں۔پس بلحاظ اس کے کہ یہ