خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 10 of 703

خطبات نور — Page 10

10 دیجاتی ہے۔ایک قسم کی بہادری اور نصرت عطا ہوتی ہے۔اس بات کے قائم کرنے کے لئے جس کے لئے اس کو بھیجا ہے قسم قسم کی نصرتیں عطا ہوتی ہیں۔کوئی ارادہ اور سچا جوش پیدا نہیں ہو تا جب تک کہ خدا تعالیٰ کی مدد کا ہاتھ ساتھ نہ ہو۔بڑی بڑی مشکلات آتی ہیں اور ڈرانے والی چیزیں آتی ہیں مگر اللہ تعالٰی ان سب خوفوں اور خطرات کو امن سے بدل دیتا ہے اور دور کر دیتا ہے۔ایک معیار تو اس کی راستبازی اور شناخت کا یہ ہے۔اب ذرا ہادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت پر غور کرو۔جب آپ نے دعوت حق شروع کی ، تنہا تھے۔جیب میں روپیہ نہ تھا۔بازو بڑے مضبوط نہ تھے۔حقیقی بھائی کوئی نہ تھا۔ماں باپ کا سایہ بھی سر سے اٹھ چکا تھا اور ادھر قوم کو دلچسپی نہ تھی۔مخالفت حد سے بڑھی ہوئی تھی۔مگر خدا کے لئے کھڑے ہوئے۔مخالفوں نے جس قدر ممکن تھا دکھ پہنچائے جلا وطن کرنے کے منصوبے باندھے قتل کے منصوبے کئے کیا تھا جو انہوں نے نہ کیا۔مگر کس کو نیچا دیکھنا پڑا۔آپ کے دشمن ایسے خاک میں ملے کہ نام و نشان تک مٹ گیا۔وہ ملک جو کبھی کسی کے ماتحت نہ ہوا تھا آخر کس کے ماتحت ہوا۔اس قوم میں جو توحید سے ہزاروں کوس دور تھی توحید پہنچادی اور نہ صرف پہنچادی بلکہ منوا دی۔خوف کے بعد امن عطا کیا۔ان کے بعد ان کے جانشین حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہوئے۔آپ کی قوم جاہلیت میں بھی چھوٹی تھی۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم میں سے بھی نہ تھے۔پھر کیونکر ثابت ہوا کہ خلیفہ حق ہیں۔اسامہ کے پاس ہیں ہزار لشکر تھا اس کو بھی حکم دے دیا کہ شام کو چلے جاؤ۔اگر اسامہ کا لشکر موجود ہوتا تو لوگ کہتے کہ ہیں ہزار لشکر کی بدولت کامیابیاں ہوئیں۔نواح عرب میں ارتداد کا شور اٹھا۔تین مسجدوں کے سوا نماز کا نام و نشان نہ رہا تھا۔سب کچھ ہوا۔پر خدا نے کیسا ہاتھ پکڑا کہ رافضی بھی گواہی دے اٹھا کہ اسد اللہ الغالب کو خوف کی وجہ سے ساتھ ہونا پڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیسا خوف پیدا ہوا کہ عرب مرتد ہو گئے۔مگر سب خوف جاتا رہا۔کیوں؟ اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنائے تھے۔اسی طرح ہمیشہ ہمیشہ جب لوگ مامور ہو کر آتے ہیں تو خدا تعالیٰ کی قدرت نمائی ہے۔اس کے ہاتھ کا تھا منا یہ دکھلا دیتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں محفوظ ہوتا ہے۔یادر رکھو جس قدر کمزوریاں ہوں، وہ سب معجزات اور الٹی تائید میں ہیں۔کیونکہ ان کمزوریوں ہی میں تائید الہی کا مزہ آتا ہے اور معلوم ہو جاتا ہے کہ خدا کی دستگیری کیسا کام کرتی ہے۔امیر دولت کے گھمنڈ سے مولوی علم کے گھمنڈ سے کوئی منصوبہ بازیوں اور حکام کے پاس آنے جانے کے گھمنڈ سے اگر کامیاب ہوتا ہے تو خدا کے بندے خدا کی مدد سے کامیاب ہوتے ہیں۔ان کے پاس سرمایہ علوم اور سفر کے وسائل نہیں ہوتے۔مگر عالم ہونے کی