خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 152 of 703

خطبات نور — Page 152

152 خدا تعالیٰ کی عظمت و جبروت کو بیان کریں۔حج میں ایک کلمہ کہا جاتا ہے لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَةَ لَكَ وَ الْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ (بخارى كتاب الحج باب التلبیہ) جس کا مطلب یہ ہے کہ اے مولا! تیرے حکموں کی اطاعت کے لئے اور تیری کامل فرمانبرداری کے لئے میں تیرے دروازے پر حاضر ہوں۔تیرے احکام اور تیری تعظیم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔غرضیکہ یہ حقیقت ہے مذہب اسلام کی جس کو مختصر الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔پھر دن میں پانچ دفعہ کل مسلمانوں کو ”اللہ اکبر" کے الفاظ سے بلایا جاتا ہے۔کوئی نادان اسلام پر کیسے ہی اعتراض کرے کہ ان کا خدا ایسا ہے ویسا ہے مگر وہ خدا تعالیٰ کے لئے اکبر سے بڑھ کر لفظ وضع نہیں کر سکتا۔نماز کے لئے بلاتے ہیں تو اللہ اکبر" سے شروع کرتے اور ختم کرتے ہیں تو رَحْمَةُ الله پر۔حج کے برکات میں سے ایک یہ تعلیم ہے جو کہ اس کے ارکان سے حاصل ہوتی ہے کہ انسان سادگی اختیار کرے اور تکلفات کو چھوڑ دے۔اس کے ارکان کبر و بڑائی کے بڑے دشمن ہیں۔سستی اور نفس پروری کا استیصال ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر ایک بات یہ ہے کہ ہزاروں ہزار سال سے ایک معاہدہ چلا آتا ہے۔وہ یہ کہ جناب الہی کے حضور حاضر ہو کر تحمید کرتا ہے اور بہت سی دعائیں مانگتا ہے۔محدود عقل اور خواہش کے محدود نتائج وَلَيْسَ الْبِرَّ " انسان کو ایک زبر دست طاقت کا خیال ہمیشہ رہتا ہے اور یہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے کہ ہر ایک مذہب میں جناب الہی کی عظمت و جبروت کو ضرور مانا جاتا ہے۔جو لوگ اس سے منکر ہیں وہ بھی مانتے ہیں کہ ایک عظیم الشان طاقت ضرور ہے جس کے ذریعہ سے یہ نظام عالم قائم ہے۔اس کے قرب کے حاصل کرنے والے تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔بعض کی غرض تو یہ ہوتی ہے کہ جسمانی سامان حاصل کر کے جسمانی آرام حاصل کیا جاوے۔جیسے ایک دوکاندار کی بڑی غرض و آرزو یہ ہوتی ہے کہ اس کا گاہک واپس نہ جاوے۔ایک اہل کسب ایک دو روپیہ کما کر پھولا نہیں سماتا۔لیکن ایسے لوگ انجام کار کوئی خوشحالی نہیں پاتے۔وجہ یہ ہے کہ ان کی خواہش محدود ہوتی ہے۔اس لئے محدود فائدہ اٹھاتے ہیں اور محدود خیالات کا نتیجہ پاتے ہیں۔بعض اس سے زیادہ کوشش کرتے ہیں اور ان پر خواب اور کشف کا دروازہ کھلتا ہے۔اس قسم کے لوگوں میں بھلائی اور اخلاق سے پیش آنے کا خیال وارادہ بھی ہوتا ہے۔مگر چونکہ ان کی عقل بھی محدود ہوتی ہے اس لئے ان کی راہ بھی محدود ہوتی ہے۔ایک حد کے اندر اندر رہتے ہیں اور ان کو مشیر بھی محدود الفطرت ملتے ہیں۔تیسری قسم کے لوگ کہ کوئی بھلائی ان کی