خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 130 of 703

خطبات نور — Page 130

130 گیا اور غنی والوں کو کافر ،منافق، شقى - فَمَنْ يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ (البقرة: ۲۵۷) جو لوگ الی حد بندیوں کو توڑ کر چلے گئے ہیں ان کو طاغوت کہا ہے۔اللہ تعالیٰ کی راہیں جن کو قرآن نے واضح کیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا ان میں تو فہم نہیں ہے۔(ادنی درجہ قسم ہے اس سے بڑھے تو فصم پھر اس سے بھی بڑھے تو فضم) اللہ وہ اللہ ہے جو تمہاری دعاؤں کو سنتا اور تمہارے اعمال کو جانتا ہے۔الغرض یہ دین ہے اور اس کا نتیجہ ہے قرب الہی۔جب انسان اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے تو چونکہ الله نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ (النور (۳۲) ہے اس لئے یہ ظلمت سے نکلنے لگتا ہے اور اس میں امتیازی طاقت پیدا ہوتی جاتی ہے۔ظلمت کئی قسم کی ہوتی ہے۔ایک جہالت کی ظلمت ہے۔پھر رسومات عادات عدم استقلال کی ظلمت ہوتی ہے۔جس قدر ظلمت میں پڑتا ہے اسی قدر اللہ تعالیٰ سے دور ہوتا جاتا ہے اور جس قدر قرب حاصل ہو تا اسی قدر امتیازی قوت پیدا ہوتی ہے۔نزول و صعود پس اگر کسی صحبت میں رہ کر ظلمت بڑھتی ہے تو صاف ظاہر ہے کہ وہ قرب الہی کا موجب نہیں بلکہ بعد و حرمان کا باعث ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے تو جسقدر انسان قریب ہو گا اسی قدر اس کو ظلمت سے رہائی اور نور سے حصہ ملتا جاوے گا۔اسی لئے ضروری ہے کہ ہر فعل اور قول میں اپنا محاسبہ کرو۔نیچے اور اوپر کے دو لفظ ہیں جو سائنس والوں کی اصطلاح میں بھی بولے جاتے ہیں اور مذہب کی اصطلاح میں بھی ہیں۔میں نے نیچے اور اوپر جانے والے چیزوں پر غور کی ہے۔ڈول جوں جوں نیچے جاتا ہے اس کی قوت میں تیزی ہوتی جاتی ہے اور اسی طرح پتنگ جب اوپر جاتا ہے پہلے اس کا اوپر چڑھانا مشکل معلوم ہوتا ہے لیکن آخر وہ بڑے زور سے اوپر کو چڑھتا ہے۔یہی اصل ترقی اور تنزل کی جان ہے یا صعود اور نزول کے اندار ہے۔انسان جب بدی کی طرف جھکتا ہے اس کی رفتار بہت سست اور دھیمی ہوتی ہے لیکن پھر اس میں اس قدر ترقی ہوتی ہے کہ خاتمہ جہنم میں جا کر ہوتا ہے۔یہ نزول ہے۔اور جب نیکیوں میں ترقی کرنے لگتا اور قرب الی اللہ کی راہ پر چلتا ہے تو ابتدا میں مشکلات ہوتی ہیں اور ظالِم لِنَفْسِهِ ہونا پڑتا ہے مگر آخر جب وہ اس میدان میں چل نکلتا ہے تو اس کی قوتوں میں پر زور ترقی ہوتی ہے اور وہ اس قدر صعود کرتا ہے کہ سابق بِالْخَيْرَاتِ ہو جاتا ہے۔جو لوگ اس اصل پر غور کرتے ہیں اور اپنا محاسبہ کرتے ہیں کہ ہم ترقی کی طرف جا رہے ہیں یا تنزل کی طرف وہ ضرور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔