خطبات نور — Page 129
129 خاص مذاق میں بڑھے ہوئے ہیں۔بعض ایسے ہیں کہ ان کو کھانے ہی کی ایک دھت ہوتی اور اب وہ اس میں بہت ترقی کر گئے ہیں اور کرتے جاتے ہیں۔بعض کو دیکھا ہے کہ بچپن میں یہ عادت ہوئی اور پھر بڑھتے بڑھتے بہت سی بد اطواریوں کا باعث بن گئی۔ایسا ہی لباس میں افراط کرنے والے مکانات میں افراط سے کام لینے والوں کا حال ہے۔ایسا ہی بعض جمع اموال میں بعض فضول خرچیوں میں بڑھتے ہیں۔جب ایک کی عادت ڈال لیتے ہیں تو پھر وہ ہر روز بڑھتی ہے۔غرض افراط اور تفریط دونوں مذموم چیزیں ہیں۔عمدہ اور پسندیدہ اقتصاد یا رشد ہے۔یہی حال اقوال اور افعال میں ہے۔اس طرح پر ترقی کرتے کرتے ہم عقائد تک پہنچتے ہیں۔بعض نے تو سوسائٹی کے اصول رسم و رواج سب کو اختیار کر لیا اور مذہب کا جزو قرار دے لیا اور بعض ایسے ہیں کہ ساری انجمنوں کو لغو قرار دیتے ہیں۔غرض دنیا عجیب قسم کی افراط اور تفریط میں پڑی ہوئی ہے۔رشد اور اقتصاد کی صراط مستقیم صرف اسلام لے کر آیا ہے۔بعض نادانوں نے اعتراض کیا ہے کہ اسلام تو رشد اور اقتصاد سکھاتا ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقابلہ کیوں کیا؟ مگر افسوس ہے کہ ان کو معلوم نہیں۔انہوں نے تو تیرہ سال تک صبر کر کے دکھایا اور پھر آخر آپ چونکہ کل دنیا کے لئے ہادی تھے تو بادشاہوں اور تاجداروں کے لئے بھی کوئی قانون چاہئے تھا یا نہیں؟ اب دیکھ لو کہ غیر قوموں کی لڑائیوں میں کیا ہوتا ہے۔جب دشمن سے مقابلہ ہوتا ہے تو بعض اوقات عورتیں، بچے ، مویشی، کھیت سب تباہ ہو جاتے ہیں۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟ صرف اس لئے کہ مذہب نے ملک داری کا کوئی نمونہ اور قانون پیش نہیں کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ضرورت کی خود تکمیل کی ہے اور اسی لئے خانہ داری کے اصولوں پر الگ بحث کی ہے۔ان لوگوں کو جو حیض و نفاس کے مسائل پر اعتراض کرتے ہیں غور کرنا چاہئے کہ معاشرت کا یہ بھی ایک جزو ہے۔۔غرض ہماری شریعت جامع شریعت ہے جس میں انسان کے فطری حوائج کھانے پینے سے لے کر معاشرت ، تمدن، تجارت ، زراعت، حرفت، ملک داری اور پھر ان سب سے بڑھ کر خداشناسی اور روحانی مدارج کی تکمیل کی یکساں تعلیم موجود ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں۔یہی باعث ہے کہ اسلام مکمل دین ہے۔یہ ایک نیا قصہ ہے کہ اسلام ہر شعبہ اور ہر حصہ میں کیا تعلیم دیتا ہے۔چونکہ اس وقت کتاب اللہ موجود ہے اور اس کا معلم بھی خدا کے فضل سے موجود ہے اور اس کا نمونہ تم دیکھ سکتے ہو۔میں صرف یہی کہوں گا۔قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَى (البقرۃ:۲۵۷) اس کی راہ رشد کی راہ ہے اور اس کے خلاف خواہ افراط کی راہ ہو یا تفریط کی اس کا نام غی ہے۔رشد والوں کو مومن، متقی سعید کہا -