خطبات نور — Page 120
120 حصول قرب الہی کا ذریعہ یہ ایک قابل غور اصل ہے اور اس کو کبھی بھی ہاتھ سے دینا نہیں چاہئے۔صفات الہی پر غور کرو اور وہی صفات اپنے اندر پیدا کرو۔نتیجہ یہ ہو گا کہ قرب الہی کی راہ قریب ہوتی جائے گی۔اور اس کی قدوسیت اور سبحانیت تمہاری پاکیزگی اور طہارت کو اپنی طرف جذب کرے گی۔بہت سے لوگ اس قسم کے ہیں جو خود ناپاک اور گندی زیست رکھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ کیوں ہم کو قرب الہی حاصل نہیں ہو تا؟ وہ نادان نہیں جانتے کہ ایسے لوگوں کو قرب الی کیونکر حاصل ہو جو اپنے اندر پاکیزگی اور طہارت پیدا نہیں کرتے۔قدوس خدا ایک ناپاک انسان سے کیسے تعلق پیدا کرے؟ ایمان بالملائکہ کی فلاسفی ایمان باللہ کے بعد دوسری جزو ایمان کی ایمان بالملائکہ ہے۔ایمان بالملائکہ کے متعلق مجھے اللہ تعالیٰ نے یوں سمجھ دی ہے کہ انسان کے دل پر ہر وقت ملک اور شیطان نظر رکھتے ہیں۔اور یہ امر ایسا واضح اور صاف ہے کہ اگر غور کرنے والی فطرت اور طبیعت رکھنے والا انسان ہو تو بہت جلد اس کو سمجھ لیتا ہے۔بلکہ موٹی عقل کے آدمی بھی معلوم کر سکتے ہیں اور وہ اس طرح پر کہ بعض وقت یکایک بیٹھے بٹھائے انسان کے دل میں نیکی کی تحریک ہوتی ہے یہاں تک کہ ایسے وقت بھی تحریک ہو جاتی ہے جبکہ وہ کسی بڑی بدی اور بدکاری میں مصروف ہو۔میں نے ان امور پر مدتوں غور کی اور سوچا ہے اور ہر ایک شخص اپنے دل کی مختلف کیفیتوں اور حالتوں سے آگاہ ہے۔وہ دیکھتا ہے کہ کبھی اندر ہی اندر کسی خطرناک بدی کی تحریک ہو رہی ہے اور پھر محسوس کرتا ہے کہ معادل میں رقت اور نیکی کی تحریک کا اثر پاتا ہے۔یہ تحریکات نیک یا بد جو ہوتی ہیں بدوں کسی محرک کے تو ہو نہیں سکتی ہیں۔پس یہ وہی بات ہے جو میں نے ابھی کمی ہے کہ انسان کے دل کی طرف ملائکہ اور شیاطین نظر رکھتے ہیں۔پس ایمان بالملائکہ کی اصل غرض یہ ہے کہ ہر نیکی کی تحریک پر جو ملائکہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے کبھی کسل و کاہلی سے کام نہ لے اور فوراً اس پر عمل کرنے کو تیار ہو جائے اور توجہ کرے۔اگر ایسا نہ کرے گا تو وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ (الانفال (۲۵) کا مصداق ہو کر پھر نیکی کی توفیق سے بتدریج محروم ہو جائے گا۔